تیرا خط
گوکہ ہم جانتے ہیں کہ خط تیرا نہ آئیگا
پر دل میں لیے اک آس ہم لینے ڈاک چلے
تیری محفل میں بن بلائے آئے تو یہ ہونا تھا
آج ہم کوچہ یار سے لیے دل صد چاک چلے
تیری اس ادا کو بیرخی کہوں یا مذاق تقدیر
ناسازگار حالات ہیں کہ ہم ہو کے خاک چلے
حسن لازوال ہے کہ عشق لازوال مسعودؔ
حسن دنیا سے ڈر ڈر کے چلا عشق والے بیباک چلے
مسعودؔ













Add Comment