بے وفا وہ ہے تو کچھ نہ کچھ دوش ہمارا بھی ہے
بے وفا وہ ہے تو کچھ نہ کچھ دوش ہمارا بھی ہے
نہ چراتی وہ ہم سے نگاہیں گر ہم بیدوش ہوتے
اسکی بے وفائیوں کا الزام ہم نے لے لیا ہے
کہتی اسے دنیا بے وفا گر ہم خاموش ہوتے
ایفائے عہد کو بھول کر اے صنم تم خوش تو بہت ہو
ہم بھی خوش ہوتے گر ہم وعدہ فراموش ہوتے
ہزار الزام لگائے دنیا نے مگر ہم نے سہے
دنیا نے شرابی کہا پر کاش ہم بادہ نوش ہوتے
محبت کو بیچ دینا نہیں ہے سبق عشق میں شامل
دنیا کا الزام بجا پر کاش ہم محبت فروش ہوتے

Bewafa














Add Comment