Categories

نومبر 2018
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
2627282930 
شب و روز میری شاعری

ہنگامۂ دن میں بیزارگی

Hungama e Din Mein Bezargi
ہنگامۂ دن میں بیزارگی

ہنگامہَ دن میں بیزارگی، آغوشِ شب میں بیزارگی
دل بیزار ہو تو ہے محفل کے ہر ڈھب میں بیزارگی

ماہ و انجم خاموش ہیں، خاموش ہیں نظارے
جہان و آسمان خاموش ہیں، خاموش ہیں انس و بت سارے

تایکیَِ شب میں ہے، تنہائی کا ساز پُرسوز بہت
اے رفتگانِ ہمسفر! آج ہے تیرا ہمراز پُرسوز بہت

آغوشِ شب میں جستجوئے سکوں ہے مجھے
مہتاب کی ٹھنڈی لَو بھی فسوں ہے مجھے

آرزوئے منزل ہو جسے وہ سفینہَ بے منزل ہوں میں
خود غرض ہی کہہ لو مجھے کہ فقط تیرا سائل ہوں میں

کس قدر شوخ ہے تمنائے بیتاب میری
کہ ہر وقت چومتی ہے خیال میں بنی تصویر تیری

فراق بھی ہے ہم میں، قربت بھی ہے ہم میں
چھپانا چاہا بھی نہ چھپا سکے، کہ محبت بھی ہے ہم میں

ہنگامۂ دن میں بیزارگی

مسعود

Bezaargi 

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW