Categories

دسمبر 2018
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31 
شب و روز میری شاعری

بہار کی ہے

بہار کی ہے
ضبط کرنا میرے دل  یہ سزا بہار کی ہے

زخم ہوئے ہیں تازہ ابتداء بہار کی ہے
ضبط کرنا میرے دل  یہ سزا بہار کی ہے

اے نسیمِ سحر جاؤ جو ان کے نگر تو کہنا
‘کرب کی آہوؤں میں ڈھلی وفا بہار کی ہے

ہجر کا بادل ہے چھایا اور شامِ غم کٹھن
دل نے تجھ کو پکارا کہ ابتداء بہار کی ہے’

کیوں کر پونچھیں گے ہم آنکھوں میں آئے اشک
کہ اشکوؤں سے بھیگی ہوئی ردا بہار کی ہے

تیری محفل میں آ تو جائیں پر کیسے آئیں ہم؟
پاؤں میں ہیں سلاسل تو چاک قبا بہار کی ہے

ہم ٹھہرے صحرا نورد، کیا  کام ہمیں شہر سے
خوشی رہو، سکھی بسو، یہی صدا بہار کی ہے

شاید ہی مسعود ہو گا کوئی فرازؔ سے ناآشنا
“کہ آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے”

مسعودؔ

Shab-o-roz

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW