زندگی ناکام ہو چکی ہے
زندگی ناکام ہو چکی ہے
غم سے بھرا جام ہو چکی ہے
پینے کی عادت نہیں ساقی ورنہ
پینے کی تمنا عام ہو چکی ہے
میں تجھے کہاں ڈھونڈنے جاؤں؟
تیری ہستی برائے نام ہو چکی ہے
بہت ہو چکی ہے ادا جفا کی
میری وفا بھی الزام ہو چکی ہے
تجھ سے کیا میں شکوہ کروں
شکوے کی مہلت تمام ہو چکی ہے
کسی قصے کی ابتداْ کروں کیونکر
کہانی تو اب کہ انجام ہو چکی ہے
جور و ستم کا یہ زخم ہے وہ
تدبیر جس کی درد مدام ہو چکی ہے
تجھے دیکھ کر ملتی تھی خوشی دل کو
وہ خوشی تلخ آلام ہو چکی ہے
بیتے لمحوں کو یاد کر کے روؤں
یہ عادت میری صبح و شام ہو چکی ہے
نظر آئے نہ مجھے کوئی شعاعِ زندگی
لڑی پھولوں کی بھی دام ہو چکی ہے















Add Comment