Categories

دسمبر 2018
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31 
شب و روز میری شاعری

زندگی ناکام ہو چکی ہے

Meri Shairi: Zindagi Nakaam Ho Chuki Hai
زندگی ناکام ہو چکی ہے

زندگی ناکام ہو چکی ہے
غم سے بھرا جام ہو چکی ہے

پینے کی عادت نہیں ساقی ورنہ
پینے کی تمنا عام ہو چکی ہے

میں تجھے کہاں ڈھونڈنے جاؤں؟
تیری ہستی برائے نام ہو چکی ہے

بہت ہو چکی ہے ادا جفا کی
میری وفا بھی الزام ہو چکی ہے

تجھ سے کیا میں شکوہ کروں
شکوے کی مہلت تمام ہو چکی ہے

کسی قصے کی ابتداْ کروں کیونکر
کہانی تو اب کہ انجام ہو چکی ہے

جور و ستم کا یہ زخم ہے وہ
تدبیر جس کی درد مدام ہو چکی ہے

تجھے دیکھ کر ملتی تھی خوشی دل کو
وہ خوشی تلخ آلام ہو چکی ہے

بیتے لمحوں کو یاد کر کے روؤں
یہ عادت میری صبح و شام ہو چکی ہے

نظر آئے نہ مجھے کوئی شعاعِ زندگی
لڑی پھولوں کی بھی دام ہو چکی ہے

زندگی ناکام ہو چکی ہے

مسعودؔ

 

Shab-o-Roz

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW