Categories

دسمبر 2018
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31 
شب و روز میری شاعری

ماضی کی پرچھائیاں

Meri Shairi: Maazi Ki Parchaiyaan
ماضی کی پرچھائیاں

زندگی سے کچھ لمحے ادھار مانگے
اور موت ہے کہ چلنے کو تیار مانگے

اپنے ہی سانسوں کی ضمانت نہیں کوئی
عمر بھر کے وعدے میرا یار مانگے

کہیں سے آب ِ بقائے دوام لے ساقی
یہ محفل وہی پرانے بادہ خوار مانگے

وہاں جا کر بھی نہ ملے گا سکون، پھر بھی
کوئے یار جانے کو دلِ بیقرار مانگے

تیری خوشی کے لیے اپنی خوشیاں لٹا دوں
ایک بار تو میری بانہوں کا حصار مانگے

رب سے مانگتا رہا تیری خوشیوں کی بھیک
اور تو میرے لیے چشمِ اشکبار مانگے

ماضی کی پرچھائیوں سے نکل اے جانِ مسعوؔد
ساتھ لے جانے کو تجھے وقت کی رفتار مانگے

ماضی کی پرچھائیاں

مسعودؔ

Meri Shairi: Maazi Ki Parchaiyaan

Shab-o-roz

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW