Categories

دسمبر 2018
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31 
شب و روز میری شاعری

سکۂ بے مہر

Meri Shairi: Sikah-e-Be'muhr
Sikah-e-Be’muhr
 
 
ٹوٹ کر گرنا ہو جس کا مقدر‘ وہ گوہر ہوں میں
جو کبھی استعمال نہ ہو سکے وہ سکۂ بے مہر ہوں میں
شومئِ تقدیر کی یہ ادا بھی دیکھی ہم نے
ثریّا کے عقب سے آن گرا زمین پر ہوں میں
دنیا کی رنگ برنگی موجوں میں غرق ہو گیا
جسے تقدیر نے ڈبویا وہ سفینۂِ بے رہبر ہوں میں
واہ ری تقدیر تجھے اس قدر تھی حقارت ہم سے
اک بوجھ سا بنا کے رکھا گیا زمین پر ہوں میں
کسی کا ساتھ مل جاتا تو تقدیر سنور جاتی
سب کے ہوتے ہوئے بھی رہا تنہا مگر ہوں میں
ساری دنیا مستی میں گیت خوشیوں کے گاتی ہے
مگر اپنی تقدیر پر رہا نوحہ گر ہوں میں
ہار گیا تھا حوصلہ ستم دنیا نے اتنے کیے
اک مدت سے رہا اپنے سے بے خبر ہوں میں
جلتی شمع کا ہر پروانہ ساتھی ہوتا ہے
بجھی شمع کا نہیں کوئی‘ ہاں ہمسفر ہوں میں
اب تم ساحل پہ کبھی مجھے ساتھ لے جانا مسعودؔ
وہ ساحل ہے تو کیا غم‘ اب بھنور ہوں میں
 
 

 

 
 

Shab-o-roz

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW