Categories

جنوری 2019
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 123456
78910111213
14151617181920
21222324252627
28293031 
بزمِ سخن گلدستۂ غزل

میں خیال ہوں کسی اور کا

میں خیال ہوں کسی اور کا

میں خیال ہوں کسی اور کا

میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے
سرِ آئینہ میرا عکس ہے ، پسِ آئینہ کوئی اور ہے
میں کسی کے دستِ طلب میں ہوں تو کسی کے حرف دعا میں ہوں
میں نصیب ہوں کسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے
عجب اعتبار و بے اعتباری کے درمیان ہے زندگی
میں قریب ہوں کسی اور کے مجھے جانتا کوئی اور ہے
میری روشنی تیرے خدوخال سے مختلف تو نہیں مگر
تو قریب آ تجھے دیکھ لوں تو وہی ہے یا کوئی اور ہے
تجھے دشمنوں کی خبر نہ تھی، مجھے دوستوں کا پتا نہ تھا
تیری داستاں کوئی اور تھی، میرا واقعہ کوئی اور ہے
وہی منصفوں کی روایتیں، وہی فیصلوں کی عبارتیں
میرا جرم تو کوئی اور تھا پر میری سزا کوئی اور ہے
کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں ، دیکھنا انہیں غور سے
جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے
جو میری ریاضتِ نیم شب کو سلیم صبح نہ مل سکی
تو پھر اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ یہاں خدا کوئی اور ہے
[spacer size=”30″]

شاعر: سلیم کوثر

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW