Categories

جنوری 2019
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 123456
78910111213
14151617181920
21222324252627
28293031 
بزمِ سخن نظم

کہ تم ہو یاد مجھے

کہ تم ہو یاد مجھے

کہ تم ہو یاد مجھے

کہ تم ہو یاد مجھے!

پلٹ کے دیکھنا چاہو تو نفرتوں سے اُدھر
دِنوں کی راکھ پہ، راتوں کی یخ ہتھیلی پر
ہوا کے ناچتے گرداب کی تہوں میں کہیں
بُجھا ہوا کوئی لمحہ کسی چراغ کا داغ
نظر پڑے تو سمجھنا کہ میں بھی زندہ ہوں

کہ میں بھی زندہ ہوں اپنے اُجاڑ دل کی طرح
اُجاڑ دِل کہ جہاں آج بھی تمہارے بغیر
ہر ایک شام دھڑکتے ہیں خواہشوں کے کواڑ
ہر ایک رات بکھرتی ہے آرزو کی دھنک
ہر ایک صبح دہکتے ہیں زخم زخم گلاب
اُجاڑ دل کہ جہاں آج بھی تمہارے بغیر!
ہر ایک پل مری آنکھوں میں دُھل کے ڈھلتا ہے
تُپکتی رُت کی تپش سے بدن پگھلتا ہے

اُجاڑ دِل کہ جہاں ڈوبتا ہوا سورج
جبینِ وقت پہ لکھتا ہے دُوریوں کا پیام
پلٹ کے دیکھنا چاہو تو نفرتوں سے اُدھر
پسِ غبار درخشاں ہے کب سے ایک ہی نام
وہ نام جس پہ مُسلسل ہے اعتماد مجھے
وہ نام لوحِ جہاں پر اُبھر کے بولتا نام
نظر پڑے تو سمجھنا کہ تم ہو یاد ’’مجھے‘‘

[spacer size=”30″]

شاعر: (اگرآپ کو شاعر کا نام معلوم ہے کو کامنٹس میں لکھیے)

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW