Categories

جنوری 2019
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 123456
78910111213
14151617181920
21222324252627
28293031 
بزمِ سخن گلدستۂ غزل

یہ حسن و عشق تو دھوکا ہے سب مگر پھر بھی

یہ حسن و عشق تو دھوکا ہے سب مگر پھر بھی

یہ حسن و عشق تو دھوکا ہے سب مگر پھر بھی

کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی
یہ حسن و عشق تو دھوکا ہے سب مگر پھر بھی

ہزار بار زمانہ ادھر سے گزرا ہے
نئی نئی سی ہے کچھ تیری رہگزر پھر بھی

کہوں یہ کیسے اِدھر دیکھ یا نہ دیکھ اُدھر
کہ درد درد ہے پھر بھی، نظر نظر ہے پھر بھی

جھپک رہی ہیں زمان و مکاں کی بھی آنکھیں
مگر ہے قافلہ آمادۂ سفر پھر بھی

شب فراق سے آگے ہے آج میری نظر
کہ کٹ ہی جائے گی یہ شام بے سحر پھر بھی

پلٹ رہے ہیں غریب الوطن پلٹنا تھا
وہ کوچہ روکشِ جنت ہو، گھر ہے گھر پھر بھی

خراب ہو کے بھی سوچا کیے ترے مہجور
یہی کہ تیری نظر ہے تری نظر پھر بھی

تری نگاہ سے بچنے میں عمر گزری ہے
اُتر گیا رگِ جاں میں یہ نیشتر پھر بھی

اگرچہ بے خودئ عشق کو زمانہ ہوا
فراق کرتی رہی کام وہ نظر پھر بھی

[spacer size=”30″]

شاعر: فراق گورکھپوری

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW