ایک قطعہ
ہم اہلِ درد طرب کی محفلیں سجاویں گے کیا؟
دھواں ہوئے جاتے ہیں راستے منزل پاویں گے کیا؟
کچھ تو بچا رکھو ناکامئِ محبت کی داستاں
گر وہ پوچھ ہی بیٹھیں کہ سناؤ تو سناویں گے کیا؟
Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.
Add Comment