نطقِ خودشناسی
پیدا تجھ میں نہیں ہے نطقِ خود شناسی
فطرت تیری ہے غلامی، سوچ باسی
تعمیرِ کائنات میں تیرا عمل بے عمل
تربیت اخلاق کی موت، عملاً سنیاسی
ملا تیرے ستیزہ کار و فتنہ گر سارے
راہبر ناعاقبت اندیش و غیر سیاسی
ملک و قوم پر چھایا ہے سامری جادوگر
جس کے سحر نے کر دیا ہر امر عاصی
مسعودؔ کون ہے قدرو عزت میں بڑا؟
ملک کے حکمران یا اسٹیج کے میراثی!














Add Comment