Categories

دسمبر 2025
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
1234567
891011121314
15161718192021
22232425262728
293031 
حالاتِ حاضرہ سیاسیات

ریاست سے جاگیر تک

ریاست سے جاگیر تک
ریاست سے جاگیر تک

 

کہتے ہیں کہ پاکستان کی ریاست اسلام کے نام پر حاصل کی گئی تھی۔

یہ بھی کہتے ہیں کہ بابائے قوم حضرت قائدِ اعظم کے دماغ میں پاکستان کی تشکیل اولاً موجود ہی نہیں تھی، بلکہ آپ تو ہندوستانی مسلمان لیڈروں اور رہنماؤں کی فطرت سے مایوس ہو کر لندن جا بسے اور تحیہ کر لیا کہ کبھی ہندوستان واپس نہیں آئیں گے۔ 

آپ کو ہندوستان واپس لانے اور ہندوستانی مسلمانوں کی رہنمائی کرنے پر مصر کرنے والوں میں حضرت اقبال بھی شامل تھے۔ جناح کے برعکس اقبال کے دماغ میں ایک اسلامی ریاست کا تصور موجود تھا  اور آپ انگریز کی غلامی میں دن بدن بگڑتے ہوئے حالات کو بھانپتے ہوئے یہ جان چکے تھے یہ ریاست قائم کی جا سکتی ہے، مگر اسکے لیے ایک لیڈر کی ضرورت ہے، اور وہ لیڈر جناح کی صورت میں سامنے آیا۔

بیشک اقبال جناح کو مسلمانوں کی سیاسی رہنمائی کے لیے تیار کر چکے تھے مگر اقبال یہ بھی جانتے تھے کہ جناح لبرل ہیں ، اگر ایک ریاست قائم ہوتی بھی ہے تو جںاح اسے لبرل جمہوری ریاست تو بنا سکتے ہیں مگر ایک اسلامی ریاست نہیں بنا پائیں گے، لہٰذا اقبال نے اس کام کے لیے مولانا مودودی جو چنا جو انکی جہاں دید نظر میں ان مخصوص علماؤں میں سے تھے جو  اسلام کی  اصل روح سے واقف تھے۔

اقبال تشکیلِ پاکستان سے پہلے ہی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے، جناح کی کوششوں سے پاکستان کی ریاست قائم ہو گئی۔

بدقسمتی سے تقسیمِ ہند کے ساتھ پاکستان ہندوستان کی جنگ شروع ہو گئی جب پاکستانی فوجیں کشمیر میں داخل ہو گئی۔ ادھر قائدِ اعظم کی طبیعت ناساز رہنے لگی۔ آپ کی ناسازئی طبیعت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فوج کے خفیہ حکم پر قائدِ اعظم کو زیارت محسور کر دیا گیا۔ فوج یہ جانتی تھی کہ آپ کے بعد پاکستان کی سیاسی قوت سخت ناتواں اور کمزور ہے۔

مولانا مودودی سیاست میں کوئی خاص مقام حاصل نہ کر پائے اور لیاقت علیخان کے سوا پاکستان کے پاس کوئی ایسا سیاسی لیڈر موجود نہیں تھا جو ایک مضبوط سیاسی قوت قائم کر سکتا کیونکہ آزادی کی جدوجہد میں جناح کیساتھ شامل لوگ زیادہ تر جاگیردار، دولتمند اور امیر لوگ تھے، سیاستدان کم تھے۔

دوسری جنگِ عظیم کے بعد مغرب میں بہت اعلیٰ پیمانے پر تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ ان میں ایک تبدیلی اقوامِ متحدہ کا ادارہ قائم کی گیا جس کا کاغذی مقصد اقوامِ عالم کے مسائل کا حل نکالنا تھا۔ لیاقت علیخان نے پاکستان کے محدود وسائل کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کیا کہ کشمیر کی جنگ بند کی جائے اور کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ میں رکھا جائے، انہیں یقین تھا کہ یہ مسئلہ پاکستان کے جائز حق پر جلد ختم ہو جائے گا، مگر اقوام متحدہ میں ہندوستانی سیاست نے اپنا اثر دکھایا اور مسئلہ ایسا الجھایا کہ اس پر پاکستان کے ناتجربہ کار سفیروں کی خامیوں کی وجہ سے کمزور پڑ گیا۔

پاکستانی فوج کسی طور کشمیر سے واپس آنے کو تیار نہیں تھی، مگر لیاقت علیخان کے فیصلے کے سامنے بے بس تھے، واپس آنا پڑا۔ مگر اس واپسی نے فوجی اور سیاسی قیادت میں ایک تفرق پیدا کر دیا۔ یہ ایک ایسی خلیج کی ابتدا تھی جو پھر اگلے 78 سالوں میں کبھی نہ بھر سکی۔ یوں میجر اکبر کی قیادت میں پہلی فوجی بغاوت سامنے آئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لیاقت علیخان کو قتل کرا دیا گیا۔ عین اس وقت جب لیاقت علیخان کے قتل کے تفتیشی آفیسر کے پاس اہم ترین شواہد اکٹھے ہوگئے، اسے بھی ایک جہاز کے حادثے میں قتل کرا دیا گیا۔۔۔۔اور یوں ریاست پاکستان میں سیاسی  اور عسکری قوت کے درمیاں جنگ شروع ہوئی گئی۔۔۔

ریاست سے جاگیر تک

لیاقت علیخان کے بعد جو بھی سیاسی لیڈر سامنے آیا وہ انتہائی کمزور اور ناپائیدار تھا جسکا فائدہ عسکری قوتوں نے خوب اٹھایا۔ سیاسی ڈھانچہ سخت ناکام اور ناتواں تھا۔ اس قدر ناکام کہ تشکیلِ پاکستان سے لیکر 1955 تک پاکستان کے پاس کوئی آئین نہیں تھا بلکہ انگریز کے دئیے ہوئے 1935 کے ایکٹ کے تحت ملک چلایا جا ر ہا تھا۔ اور کسی مسئلہ میں جس کا حل ریاست پاکستان میں نہیں طے پاتا اسکا حتمی فیصلہ ملکہ برطانیہ کرتی!

سیاست ابتدا ہی سے ناکام تھی جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ عسکری قوتوں نے بار بار جمہوری نظام کو درہم برہم کرتے ہوئے ملک کے نطام پر قبضہ کیا۔ عسکری قوتیں ابتدا ہی سے مضبوط رہی ہیں۔ اور ایک بار انکے پاس اقتدار آیا، پھر اس سے چھڑانا سخت مشکل امر تھا۔اس کا ایک مظاہرہ اسوقت ہوا جب 1955 میں ایوب خان کے خلاف الیکشن لڑنے کے لیے کوئی بھی سیاسی قوت موجود نہیں تھی، جس پر عوام بھروسہ کر سکتی۔ مولانامودودی نے آخری کوشش کی اور  محترمہ فاطمہ جناح کیساتھ ملک کر ایوب خان کے خلاف جدوجہد کرنے کی کوشش کی۔ تاریخ گواہ ہے کہ عسکری قوتوں نے محترمہ فاطمہ تک کی توہین کرنے سے دریغ نہیں کیا۔

فیلڈ مارشل ایوب خا ں کے سیاسی تخم سے جناب ذوالفقار علی بھٹو نے جنم لیا۔ وہ پہلے ایوب خان پھر یحیٰ خان کے قدموں میں بیٹھ کر سیاست کرتے رہے۔بھٹو کو اس بات کو شدید حد تک یقین تھا کہ جب بھی عسکری قوت سے جان چھوٹی اور حقیقی الیکش ہوئے اس میں بھٹو ہی کی حکومت بنے گی کیوں کہ وہ فوج کی آنکھوں کا تارا تھے۔

اس وقت پاکستان میں صرف ایک حقیقی عوامی لیدر  تھا، مگر وہ بنگال میں تھا۔ مجیب الرحمٰن مشرقی پاکستان میں اسقدر مقبول تھا کہ ایوب خان نےجو پہلے اور حقیقی الیکشن کرائے اس میں 160 سیٹیں لے کر لینڈ سلائد فتح حاصل کی۔جبکہ بھٹو کو اس الیکشن میں 80 سیٹیں ملی!

عسکری قوتیں پاکستان میں اقتدار چھوڑنا نہیں چاہتی تھی، سیاسی قوتوں میں مجیب الرحمٰن اہم اور سب سے مقبول تھا، مگر اس نے کچھ بنگالی فوجیوں کے ساتھ مل کر بغاوت کی ۔ بھٹو جو پہلے عسکری قوتوں کی گود میں بیٹھ کر سیاست کر رہے تھے جب انہوں نے ساٹھ کے آخری سالوں میں محسوس کیا کہ اب عسکری طاقتیں ٹوٹنے والی ہیں، پہلے مجیب الرحمٰن کے عوامی لیگ  میں شمولیت کی باقاعدہ درخواست کی جو مجیب الرحمٰن نے ٹھکرا دی۔

ریاست سے جاگیر تک

اسکے بعد بھٹو نے چند امیرزادوں، جاگیرداروں اور اعلیٰ الیٹ کے ساتھ مل کر پاکستان پیپلزپارٹی کی بنیاد رکھی۔ایوب خان کی حتمی کوشش تھی کہ جب بھی اقتدار اسکے ہاتھوں سے نکلے وہ بھٹو کے پاس جائے جسکی کوشش ایوب خان نے سقوطِ ڈھاکہ کے آخری گھنٹوں تک کی۔ طاقت کی کشمکش اب عوامی لیگ یعنی مجیب الرحمٰن، فوج یعنی ایوب خان اور پیپلزپارٹی یعنی ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان چل پڑی۔ یہ بات کہنی اشد ضروری ہے کہ سقوطِ ڈھاکہ تک بھٹو کا کردار شدید منفی رہا ہے۔ یہاں تک کہ جب آخری ملاقات کے لیے ایوب اور بھٹو ڈھاکہ گئے اور ڈھاکہ کے حالات دیکھ کر وہی سے مغربی پاکستان کے اہم رہنماؤں کو فون پر اپنے اپنے صوبے کی خودمختاری کا اعلان کرنے پر اکسایا!

سقوطِ ڈھاکہ عسکری اقتدار کے چہرے پر کلنک  کاٹیکا ہے جس میں بیشک سیاسی اور خاص کر بھٹو شامل ہےکا بھی حصہ ہے مگر یہ فوج کی سیاست میں مداخلت کی شدید ترین ناکامی کا نتیجہ ہے۔ ایوب خان اور یحیٰ خان پھانسی کے مستحق تھے مگر ان پر کبھی کوئی کیس نہیں چلا۔

مشرقی پاکستان اب بنگلہ دیش بن چکا تھا۔ ریاست پاکستان بکھر چکی تھی۔ مغربی پاکستان اب پاکستان رہ گیا۔ سقوطِ ڈھاکہ میں بدترین ناکامی کے بعد فوج نے خاموشی کو ترجیح دی۔ جبکہ بھٹو سب سے پاوورفل سیاستدان کی صورت میں سامنے آئے۔ انکے سامنے کوئی بھی سیاسی سوج بوجھ والا موجود نہیں تھا ۔ 1972 میں بھٹو نے حکومت بنائی اور 1973 میں پاکستان کی تاریخ کا پہلا حقیقی آئین لکھا گیا۔۔۔۔ یعنی تشکیل پاکستان کے 26 سال بعد ریاست پاکستان کو ایک آئین ملا۔

فوج ناکام۔۔۔ سیاست ناکام۔۔۔ باقی صرف بھٹو کا نام!

لیکن اب بھٹو حقیقی معنوں میں ایک عوامی لیڈر بن کر ابھرا۔ اور ایسا سیاسی لیڈر بن کر ابھرا جسکا رعب دنیا بھر میں محسوس کیا جانے لگا۔ بھٹو کی جرات کو سلام کہ اس نے ایسے ایسے مشکل ترین فیصلے بہت ہی بلند حوصلے اور بلا خوف و خطر کیے۔بھٹو نے چین کے ساتھ دوستی کو مستحکم کیا اور عالمی سطح پر پاکستانی موقف کومنوایا۔ مگر جب بھٹو فوج اور خاص کر امریکہ کے لیے خطرہ بننے لگا، امریکہ نے پاکستانی فوج کے ایک تیسرے درجے کے میجر کو بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹے کے لیے تیار کیا۔ جنرل ضیاالحق چیف آف آرمی اسٹاف بنایا گیا اور اس نے بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ بھٹو کو ایک ایسے جرم میں ملوث کرایا جس سے بھٹو کا کوئی تعلق نہیں تھا۔

ضیاالحق نے اس وقت کے ججز کو مجبو ر کیا کہ بھٹو کے خلاف فیصلہ دیا جائے، اور یوں سپریم کورٹ نے پاکستان کی تاریخ میں انصاف کے قتل کی بنیاد رکھتے ہوئے بھٹو کو پھانسی دیدی۔سیاسی اور عسکری قوتوں میں دبی ہوئ آگ پھر بھڑک اٹھی۔1977 سے لیکر اگلے کوئی تقریباً بارہ سال تک فوج ضیاالحق کی قیادت میں ملک کے سیاہ و سپید کا مالک بن گئی۔ اس دوران پاکستان کی تاریخ کے بدترین واقعات رونما ہوئے۔ 

سب سے بڑا گناہ مجاہدین کی تشکیل تھی جس میں پاکستان کی فوج نے اہم کردار ادا کیا۔ یہی مجاہدین آگے چل کر طالبان بنے اور خاص پاکستان کے لیے زہرِ مہک ثابت ہوئے۔ ضیاالحق نے پاکستان کو ایک امریکہ کی ایک ایسی جنگ میں ایسا ملوث کیا کہ ریاست پاکستان دہشتگردی کا اکھاڑا بن گئی۔کوئی لگ و بھگ 80 ہزار پاکستانی قتل ہوئے۔ضیاالحق نے عوامی طور پر اپنی فرعونیت کو برقرار رکھنے کے لیے ایک کٹھ پتلی عوامی سیاستدان چاہیے تھا اور یوں ضیاالحق کے سیاسی تخم سے نوازشریف نے جنم لیا!

ریاست سے جاگیر تک

نوازشریف کے سیاسی وجود کا پاکستان میں جنم پاکستان کے لیے ایک کلنک کا ٹیکا ثابت ہوا، ضیاالحق کی موت کے بعد پاکستان میں صر ف ایک حقیقی سیاسی لیڈر موجود تھی، وہ بے نظیر بھٹو تھی! مگر زرداری کے ساتھ شادی کے بعد وہ بھی کرپٹ ہو گئی! یوں سن اسی کی دہائی کے آخری سالوں سے لیکر نوے کی دہائی کے آخری سالوں تک پاکستان کچھ قدرے بہتر معاشی حالت سے بدترین معاشی حالت میں جا گرا۔ وزرا امیر سے امیر تک ہوتے گئے ، لندن میں، دبئی میں، جدہ میں   جائدادیں بنیں، کڑوڑں روپے یورپ کے بنکوں میں لانڈر کیے گئے۔ پاکستان عام انسان کے رہنے کے لیے جہنم بن گیا۔ قتل و غارت کا بدترین بازار گرم رہا اور ان دونوں جماعتوں کے کرپٹ ترین سیاستدان خاص کر شریفی خاندان اور زرداریامیر تر ہوتے گئے۔ 

ایک بار پھر فوج کو پاکستان سے محبت کا جوش و جذبہ پیدا ہوا۔  ایک بار پھر ایک غدار فوجی جرنیل، جنرل پرویزمشرف  نے لولی لنگڑی جمہوریت پر شب خون مارا اور احتساب کا ڈرامہ رچایا! ہر کسی کا احتساب ہو گا! کوئی بچ نہیں پائے گا! پاکستان کو اس مقام پر پہنچایا جائے جس کا اسکو حق ہے! دعوے پر دعوے اور عمل منافقت پر مبنی! 1998 سے لیکر کوئی 2008 تک پاکستان ایک بار پھر ایک غدار فوجی جرنیل کے قبضے میں چلا گیا! کیا فوج کا اسکا حق تھا؟ نہیں! 

اس دوان بے نظیر بھٹو کا قتل ہو گیا! قتل کرانے والے کون تھے؟ اگر عقل کے گورکھ دھندے کو استعمال کیا جائے تو اس کے قاتل تک پہنچنا انتہائی آسان ہے: میرے نذدیک نہ یہ قتل فوج نے کرایا ہے اور شریفیوں میں اتنی جرأت ہی نہیں! باقی آپ سمجھدار ہیں! اس قتل کا سب سے بڑا فائدہ کسے ہوا؟

ریاست سے جاگیر تک

2008 کے انتخابات میں پاکستا ن پیپلزپارٹی اور اب آصف علی زرداری کے قبضے میں جا چکی تھی، اسکو ہوا اور پاکستان عوام نے ایک بار پھر شدید ترین جہالت کا ثبوت دیتے ہوئے بے نطیر کے قتل پر ووٹ دیتے ہوئے زرداریوں کو پاکستان کے کل کا مختار بنا دیا۔ ان کی قسمت اچھی تھی کہ انہوں نے حکومت کس سے ہتھیائی؟ فوج سے! لہذا فوج اب ایک بر پھر پس پردہ چلی گئی کہ پہلے ہی بہت ذلت ہو چکی ہے اب ذرا کچھ عرصہ سیاست کی طرف نہیں آنا!

زرداریوں کی حکومت شریفیوں کو کب راس آتی ہے جیسے شریفیوں کی حکومت زرداریوں کو راس نہیں آتی۔ کوئی 30 سالوں سے یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کو انسانی کائنات کے کرپٹ ترین لوگ کہہ رہے تھے، اس کے انکے پاس ثبوت بھی موجود تھے۔ ایک بار پھر ایسا ہی ہوا، شریفیوں نے زرداریوں پر بھونکنا شروع کر دیا اور انکی حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کرنے لگے۔

ابھی تک پاکستان میں تین طاقتیں برجمان رہی تھیں: فوج، شریفی اوربھٹویاانہیں آپ زرداری بھی کہہ سکتے ہیں۔ سقوطِ ڈھاکہ سے پہلے فوج ہی فوج تھی کیوں کہ سیاسی قوتیں یا کمزور تھی، یا فوج نے انہیں تتر بتر کر دیا تھا۔ صرف ایک درست معنوں میں پاکستانی عوام کی نمائندہ سیاسی جماعت تھی، مگر وہ صرف بنگال تک محدود تھی، مگر پھر بنگال میں وہی ایک طاقت تھی، وہاں فوج تک کو جوتے پڑے۔ جب کہ فوج نے بھر پور کوشش کی کہ مجیب الرحمن کی طاقت بازور بازور ختم کی جائے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ملک دو ٹکڑے ہو گیا۔

سن نوے کےدرمیانی عشرے میں ایک نئی سیاسی قوت سامنے آئی: پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے بے تاج بادشاہ عمران خان نے پاکستانی عوام کی ابتری اور حکمرانوں کی بڑھتی ہوئی کرپشن ، لوٹ مار، قتل و غارت اور چوری چکاری کے خلاف محاذ کھولتے ہوئے ایک نئی سیاسی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کی بنیاد رکھی!

عمران خان کی سیاست کے ابتدائی کوئی دس سال اچھے نہیں تھے۔ مگر زرداریوں کی حکومت کے اختتام پر 2013 میں جو عوامی الیکشن ہوئے اس میں یہ بات بغیر کسی تعصب کے کہی جا سکتی ہے کہ عمران خان وہ الیکشن جیت چکا تھا۔ تاریخ کی بدترین دھاندلی کرائی گئی اور شریفیوں کو حکومت دیدی گی۔ 

عمران خان نے اس دھاندلی کے خلاف اپنے مشہورِ زمانہ دھرنوں کا ایک ایسا زبردست سلسلہ شروع کیا کہ شریفیوں کی حکومت مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی۔ اس قدر مفلوج کی شریفیوں کے پاس بھاگ نکلنے کا راستہ بھی مشکل ہو گیا۔ پھر پاکستان کی تاریخ کا ایک دلسوز واقع ہوا۔ ایسا واقع جس کو دیکھ کر کافر بھی لرز اٹھے۔

سقوطِ ڈھاکہ کے بعد کی پاکستانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کو جب بھی کرپٹ سیاستدان مشکلات کا شکار ہوئے ہیں، ‘غائب’ سے انکے لیے امداد آتی رہی  ہے۔ اور خاص کر جب شریفی اور زرداری مشکل میں ہوئے ہیں انکا تمام تر نزلہ آرمی پر نکلتا رہا ہے۔ عمران خان کے دھرنوں نے اور شریفیوں کے خلاف عوامی نفرت نے ایسے حالات پیدا کر دئیے کہ 2014 کو پشاور  میں آرمی پبلک اسکول پر وحشیانہ حملہ کرایا گیا جس میں 150 کے قریب بچوں اور اساتذہ کو بدترین سفاکی سے قتل کیا گیا! 

یہ ایک ایسا ہولناک واقع تھا جس پر دنیا کی کوئی بھی حکومت ہوتی وہ خود ہی استعفی دے دیتی۔ مگر شریفیوں کے لیے یہ واقع ڈوبتی ہوئی کشتی کو تنکے کے سہارے کے مترادف ثابت ہوا: ایک تیر میں دو نشانے: عمران خان کے دھرنے تتر بتر ہو گئے اور ساتھ ہی فوج، جس اس وقت تک نوازشریف کے لیے انسانی کائنات کی سب سے غلیظ چیز تھی، ان پر بھی ضرب لگ گئی۔ نوازشریف پہلے سے زیادہ ڈھٹائی کیساتھ کرسی پر بیٹھا رہا جبکہ 2016 میں پانامہ پیپرز میں شریفیوں کی بدترین کرپشن سامنے آئی!

ریاست سے جاگیر تک

2018 کے الیکشن : مغربی مبصرین کے مطابق یہ پاکستان کی تاریخ کے سن 70 کے الیکشن کے بعد سب سے شفاف ترین الیکشن تھے اور اس میں عمران خان کی تحریکِ انصاف کو لینڈ سلائڈ فتح حاصل ہونے ہی والی تھی کہ بجلی چلی گئی، الیکشن کمیشن کا نظام ایک بار پھر دھرم بھرم کر دیا گیا اور وہ جو رات کے وقت لینڈ سلائد فتح بننے جا رہی تھی، وہ فقط ایک فتح تک محدود رہ گئی۔ ایسے کہ عمران خان ایسی حکومت بنانے کے قابل ہی نہ رہا جو وہ چاہتا تھا۔۔۔ ایک بار پھر کمپنی نے اپنا کام دکھا دیا!

یوں عمران خان کو بادل نخواستہ ان لوگوں کے ساتھ ملکر حکومت بنانی پڑی جنہیں وہ پسند ہی نہیں کرتا تھا۔ ایک کمزور حکومت رکھنے کے باوجود عمران خان نے امریکہ کو آنکھیں دکھانا شروع کر دیں۔ عالمی فورم پر کھڑے ہو کر دھڑلے سے مغرب کو اسلام فوبیا پر لیکچر دینے لگا۔ امریکی احکامات کے برخلاف، پاکستانی فوجی جرنیلوں کی تنبیہوں کو پاؤں تلے روندتا ہوا عین اس وقت روس چلا گیاجب روس نے یوکرائن پر حملہ کر دیا۔وہ حملہ جس کو بچانے کے لیے امریکہ اور مغربی ممالک نے کھربوں ڈالر ڈبو دئیے ہیں۔پھر وہ ہوا جو امریکہ نے چاہا!

ابھی تک پاکستان ایک ریاست تھا! لولی لنگڑی ، ناتواں، ناکام، پسماندہ یا فوجی استبداد تلے دبی ہوئ – تھی ایک ریاست!!!!

مگر اب جو ہوا وہ انسانی تاریخ میں آج تک نہیں دیکھا گیا۔ فوج نے ایکبار پھر ریاستی امور میں غداری کرتے ہوئے ایک جمہوری حکومت گرا دی۔ ایک ایسی حکومت قائم کی جس کے رہنما اپنے ہی حلقوں میں ہار چکے تھے یوں نوازشریف اپنے ہی حلقے میں یاسمین راشد سے ہار چکا تھا۔ عاصم منیر کی قیادت میں فوج نے ان لوگوں کو چن چن کر حکومت کے عہدوں پر فائز کیا جو فوج کے جوتوں کے گند کو اپنی زبان سے چاٹنے کے لیے تیار بیٹھے تھے۔

ان لوگوں کو حکومت دینے کا ایک بہت بڑا مقصد تھا! عاصم منیر نے ایک حرامخور پارلیمنٹ سے آئین میں ستائیسویں ترمیم کرائی جسکے تحت فوج ریاستِ پاکستان سے بالاتر ایک بالکل الگ حقیقت بن گئی جس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں مگر پاکستان پر حکومت کر سکے۔ جس کے پنجہ استبداد میں پاکستان مکمل طور پر پھنس جائے۔ یہ ترمیم ہی آئینِ پاکستان کی بہت بڑی توہین ہے مگر اپنی اس توہین کو تسکین دینے کے لیے فوج نے صدر کو بھی یہی استثنی دلوا دیا کہ سیاست فوج پر انگلی نہ اٹھا سکے۔

اس ترمیم کے بعد افواجِ پاکستان ریاستِ پاکستان کے ماتحت ایک ادارہ نہیں رہا بلکہ ریاستِ پاکستان اب افواجِ پاکستان کے ماتحت ایک جاگیر بن کر رہ گئی ہے۔ فوج بالاتر ہے! فوج پر پاکستان کا آئین لاگو نہیں ہوتا۔ جبکہ فوج پاکستان کی کل کی تقدیر کی واحد مالک ہے۔ اور اس کو تقویت دینے کی فوج نے ایک ایسی حکومت قائم کر دی ہے جو انکے احکامات کے تحت حکومت کرے۔

ریاست سے جاگیر تک

جنرل عاصم منیر نے پہلے آئینی طور پر اپنے آپ کو پاکستان سے بالاتر قرار دلوایا، پھر یہ پر تسلی نہ ہوئی اور سینے میں کوئی کھڑکا سا تھا تو پاکستان کے منافق ترین مولویوں اور بے عمل بے دین ملاؤں سے اپنے حق میں فتوے دلوائے کہ فوج کے خلاف بات کرنا کفر تک سمجھا جائے گا! ملاؤں نے ایک غدار فوجی جرنیل کو تقریبا ایک ولی اللہ بلکہ خلفائے راشدین کے برابر لا کھڑا کیا ہے!

باالفاظ دیگر اس وقت پاکستان کیا آئینی طور پر کیا دینی طور پر مکمل طور پر فوجی استبداد میں جکڑ دیا گیا ہے اور پاکستان ایک ریاست کی بجائے فوجی جاگیر بن گیا ہے۔  فوج جب چاہے ، جسے چاہےملک کے لیے خطرہ قرار دے کر اٹھوا لے، قتل کرا دے، ان کی عزتوں کو رسوا کرائے – فوج کو مکمل اختیار ہے!!!!

جب سے یہ غداری ہوئی ہے، کوئی ساٹھ لاکھ کے قریب پاکستانی ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں، اور اس وقت لاکھوں کی تعداد میں پاکستان دوسرے ملکوں کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ اس وقت دنیا میں سب سے بڑی نقل مکانی پاکستانیوں کی ہے!کیونکہ پاکستان اب ایک ریاست نہیں رہی، جاگیر بن گئئ ہے!!


بقلم: مسعود


سیاسی کالمنز

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW