Categories

جولائی 2026
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
2728293031 
حالاتِ حاضرہ سیاسیات

ہم سب شہید ہیں!

ہم سب شہید ہیں!

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ فوج کے جوان ملک کے لیے لڑنے کے لیے عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہ لیتے ہیں، اس لیے ان کی شہادت کو اس انداز میں پیش نہیں کیا جانا چاہیے جس سے ملکی دفاع کی ذمہ داری عام شہریوں پر منتقل ہو جائے۔

اس پر فوج نے اپنے تمام تر سیاسی و غیر سیاسی ٹٹو مولانا پر طعن زنی پر لگا دیا۔ یہاں تک کہ ملاؤں کا ایک بہت بڑا طبقہ بھی فوج کے حق میں لابیاں کرنے لگا جس میں طاہر اشرفی سرِ اول ہے۔

جو جہاں کی گھسی پٹی عورتیں جیسے عائشہ گلالائی کو بھی طعن زنی پر لگا دیا۔ دو دو ٹکے کے خودساختہ سیاستدان جن کی کرسیوں اور عہدوں کا تمام تر دارومدار عاصم منیر کی بادشاہت پر منحصر ہے، وہ بھی سارا سارا دن پریس کانفرنسیں کر رہے ہیں!

ہم سب شہید ہیں!

میں بذاتِ خود مولانا فضل الرحمن کو بطور سیاستدان ناپسند کرتا ہوں اور اسکی پالیسوں کے خلاف ہوں۔ مگر مولنا کی بات غلط نہیں!

اس وقت پاکستان کے انگنت ریٹائرڈ جرنیل اور فوج کے بڑے عہدے داران اپنی اپنی ڈیوٹیوں کے بعد مغربی ممالک میں آباد ہیں جن کو ابھی تک تنخواہ ریاستِ پاکستان کے خزانے سے دی جارہی ہے! اگر یہ لوگ تنخواہوں کے لیے کام نہیں کرتے تو جانے سے پہلے اپنی تنخواہیں بند کرا کے جائیں تاکہ ریاست کا بوجھ کم ہو!

بہرحال اس مضمون میں میری بحث انکی تنخواہوں سے نہیں بلکہ لفظ شہادت سےہے جو پاکستان میں ہر قاتل اور مقتول کے لیے مستعمل ہے۔ اس ملک میں ضیاالحق  بھی شہید ہے اور ذوالفقار علی بھٹو بھی شہید ہے!

چونکہ لفظ شہادت کا تعلق دین سے ہے اور موجودہ حالات میں جہاں ملاؤں کو حرکت میں لا کر  دین کے نام پر فوج کے اعمالوں کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تو میرے اس مضمون کی بنیاد بھی دینی نطقہ نظر سے ہے۔

اس ضمن میں آئیے ذرا حضورپاک ﷺ کی ایک حدیث مبارکہ پر نظر ڈالتے ہیں۔ یہ حدیث بخاری اور مسلم دونوں میں موجود ہے یعنی یہ حدیث احسن ہے۔

حدیث مبارکہ ہے:

ہم سے بیان کیا عبدالرحمٰن بن مبارک نے ، کہا ہم سے بیان کیا حماد بن زید نے ، کہا ہم سے بیان کیا ایوب اور یونس نے ، انھوں نے حسن سے ، انھوں نے احنف بن قیس سے ، کہا کہ میں اس شخص ( حضرت علی رضی اللہ عنہ ) کی مدد کرنے کو چلا ۔ راستے میں مجھ کو ابوبکرہ ملے ۔ پوچھا کہاں جاتے ہو ؟ میں نے کہا ، اس شخص ( حضرت علی رضی اللہ عنہ ) کی مدد کرنے کو جاتا ہوں ۔ ابوبکرہ نے کہا اپنے گھر کو لوٹ جاؤ ۔ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے جب دو مسلمان اپنی اپنی تلواریں لے کر بھڑ جائیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخی ہیں ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! قاتل تو خیر ( ضرور دوزخی ہونا چاہیے ) مقتول کیوں ؟ فرمایا ’’ وہ بھی اپنے ساتھی کو مار ڈالنے کی حرص رکھتا تھا ۔ ‘‘ ( موقع پاتا تو وہ اسے ضرور قتل کر دیتا دل کے عزم صمیم پر وہ دوزخی ہوا ) ۔

اس حدیث مبارکہ پر علماؤں نے دو وضاحتی اصول قائم کیے ہیں جن کے تحت قاتل مسلمان پر جنہم واجب نہیں ہوگی، وہ ہیں:

  • جب ایک مسلمان اپنی جان و مال کی حفاظت کرتے ہوئے حملہ آور مسلمان کاخون کر دے تو خون کرنے والا جہنمی نہیں ہو گا!
  • جب ایک قانونی حکمران اپنے (ملک) میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے فتنہ و فساد پیدا کرنے والے مسلمانوں کو قتل کرے تو وہ حکمران یا اسکی فوج جہنمی نہیں!

اب یہاں پر ایک بہت بڑا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ کیاعاصم منیر ریاستِ پاکستان کا قانونی، آئینی یا شرعی حکمران ہے؟ یا عاصم منیر جو کہ ریاستِ پاکستان کی فوج کا کمانڈر  ہے اس کو حکم دینے والا سربراہ (جوکہ اس وقت شہبازشریف ہے) قانون، آئینی یا شرعی طورپر حکمران قائم کیا گیا ہے؟

 جواب دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے کہ نہیں!

نہ ہی تو شہبازشریف ریاستِ پاکستان کا جائز ، قانونی یا شرعی حکمران ہے اور نہ ہی عاصم منیر!

ایسی صورت میں اس حدیث مبارکہ کو اگر فعال کیا جائے تو عاصم منیر اور اسکی حکومت کس صف میں آتے ہے اس کا فیصلہ آپ خود کر لیجیے۔ یا پھر طاہراشرفی جیسے ملاؤں سے کرائیے جو دن رات عاصم منیر کے لیے لابیاں کر رہے ہیں!

مگر ایک بہت اہم نقطہ جو یہاں سمجھنے کا ہے وہ یہ ہے کہ حدیث مبارکہ کے جو اصول اوپر بیان کیے گئے ہیں، انکا اطلاق صرف اس صور ت میں ہو گا جب حکمران واقعی آزادانہ اور آئینی طریقے سے منتخب کیا جائے۔ اگر حکمران کا قیام ہی مشکوک ہو تو اس کے حکم پر کی جانے والی کاروائی، جنگ اور اسکے حق میں دئیے گئے مذہبی فتوے سب فقہی طور پر سوالیہ نشان بن جاتے ہیں۔

ملاؤں سے فتوے لینے کا کام پہلی بار نہیں کیا گیا۔ جب اسی کی دہائی میں ضیاالحق پر طعن زنی بڑھنی لگی اور عوامی نفرت پھیلنے لگی تو ضیاالحق نے بھی اس وقت کے اعلیٰ ترین علماؤں کا ایک جمگھٹ اکٹھا کیا اور انہیں نفاذِ نظامِ مصطفےٰ کا چونچلہ دیکر عوام میں نرم گوشہ تلاش کرنے کی کوشش کی۔ اس وقت جو اس سازش کو بھانپ گئے وہ علمأ اس سے الگ ہو گئے اور باقی ضیاالحق کے دیندار ہونے کی دلیلیں دیتے رہے۔

عاصم منیر نے بھی وہی حربہ استعمال کیا ہے  اور طاہراشرفی جیسے ملا دن رات عوام کے دماغ کو اس بات پر مسخر کرنے کی کوشش میں ہیں کہ عاصم منیر حافظِ قرآن ہے تم اس پر انگلی اٹھاتے ہو؟ سعودی عرب کا بادشاہ حافظِ قرآن ہے اور تم اس پر انگلی اٹھاتے ہو؟ طاہر اشرفی کو بتاؤ کہ سعودیہ کی بادشاہت مسلمانوں سے کفار کی سازش کا نتیجہ تھی اور عاصم منیر کی بادشاہت بھی کافروں کی جانب سے کی گئی سازش کا نتیجہ ہے!ہم سب شہید ہیں!

طاہر اشرفی کو بتاؤ کہ یزید کے دربارسے بھی حافظِ قرآن وابستہ تھے اور اکبر اعظم کے دربار سے بھی! بالآخر اکبر اعظم کو انہی نے مشورہ دیا کہ دینِ الہی کا اعلان کر دیں!

طاہر اشرفی کو بتاؤ کہ جو کام تمہارے حافظِ قرآنوں کے کرنے کا ہے وہ کام کفار کر رہے ہیں۔

اسپین کے کافر فسلطین کے حق میں امریکہ کے سامنے کھڑے ہو  گئے  ہیں۔ روس کے کافر عربوں کو طعنے دے رہے ہیں کہ تم نے فلسطین کے لیے کیا  کیا ہے؟ اشرفی صاحب تمہارے حافطِ قرآنوں  کا حفظ انکے کام آئے گا نہ کہ اس عوا م کے! اللہ کے حضور جب پیش ہونگے تو اللہ تعالیٰ اس پاکستانی قوم کو یہ کہہ کر معاف نہیں کر دیں گے کہ عاصم منیر حافظِ قرآن تھا، کیا پتہ وہاں عاصم منیر کی بھی بخشش ہوتی ہے کہ نہیں!

پاکستان ملاں حکمرانوں کے در کے پالتو ہیں اور طاقتور کےبوٹوں کو سجدے کرنے والے ہیں! یہ ملاں جانتے ہیں کہ اگر ہم نے عاصم منیر کے لیے لابیاں نہ کیں تو ہمارے چندے، مدرسے اور بولتی تک بند کر دی جائے گی۔ ہماری  عزتوں اور جانوں کے لالے پڑ جائیں گے لہذا بہتر یہی ہے کہ جابر کے سامنے خاموش رہو اور اللہ اللہ کرتے جاؤ!

دین کے نام پر پاکستانی قوم کے ساتھ جہالت کا مکروہ کھیل کھیلنے والے صرف علما ہی نہیں بلکہ وہ لاکھوں پیر فقیر، وہ عامل، وہ گدی نشین ، وہ درباری اور وہ تصوف کے نام کے شعبدہ باز بھی ہیں جنہوں نے اس قوم کو سوائے جہالت کے کچھ نہیں دیا۔ کہیں وہ شف شف سرکار کے روپ میں ہیں تو کہیں پیر لٹکن شاہ، کہیں کچھ اور کہیں کچھ سب کے سب شعبدہ باز ہیں!

کچھ دن پہلے خبر آئی کہ داتا کے دربار سے کڑوڑوں کا چندہ خردبرد ہو گیا ہے۔ اس قوم کو بتایا گیا ہے کہ سن 65 کی جنگ میں داتا صاحب نے قبر سے نکل ہندوستانی بم کیچ کر کے انہیں نکارا بنایا۔ حیرت ہے کہ داتا کے پاؤں میں پڑے چندوں کے غلوں سے کڑوڑوں غائب ہو گئے اور داتا انہیں بچا نہیں سکے؟ بد ترین جاہل قوم کو پتہ نہیں کب عقل آئے گی۔

پاکستان میں اتنے اسکول نہیں ہونگے جتنے مدرسے اور دربار ہونگے۔ جو جہاں کی جہالت ان مدرسوں اور درباروں سے پیدا ہوتی ہے۔ دربار ایک بہت بڑا بزنس ہے۔ اگر کچھ کئے بغیر داتا کے دربار پر کڑوڑوں کا چندہ اکٹھا ہو جاتا ہے  تو اس کاروبار کے چلانے والوں کو محنت مزدوری کی کیا ضرورت ہے؟ اور یہ صرف ایک دربار کی کہانی ہے!

نہ ہی توکسی دربار میں پڑاکوئی تمہاری مدد کر سکتا ہے اور نہ ہی کوئی حافظِ قرآن!  نہ ہی تو اس دنیا میں کہیں اللہ تعالیٰ نے کسی جنتی دروازے کی خبر دی جس سے گزرنے سے تم جنتی ہو جاؤ گے اور نہ ہی بنا اعمال کے کسی کی بخشش ہو گی!

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ایسا کوئی عندیہ نہیں دیا!!!  حقوق اللہ کے بعد حقوق العباد! اسکے علاوہ کوئی دین نہیں اور کچھ بھی بخشش کا ذریعے نہیں! اور حقوق اللہ میں عبادات کے بعد جس پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے وہ حق ہے! یعنی حق کا ساتھ دو چاہے تمہیں اپنی جان دینی پڑے – بدقسمتی سے پاکستان ملا حق ہی کا ساتھ نہیں دے رہے اور اپنے مذہبی خوف کے ٹارچر سے اس قوم کو بھی حق سے دور کر رہے ہیں!!!!

پاکستان میں مذہبی طبقہ کبھی ایک یکساں قوت نہیں رہا؛ یہ ہمیشہ ریاستی ضرورت، سیاسی موقع، عوامی جذبات، اور عالمی حالات کے مطابق اپنا کردار بدلتا رہا ہے۔ مذہب کو ریاست نے بھی استعمال کیا، مذہبی جماعتوں نے بھی، اور عوامی تحریکوں نے بھی۔ یہ کردار کبھی مثبت رہا، کبھی انتہائی نقصان دہ اور اس وقت مذہب کے ٹھیکداروں نے مذہب کے نام پر جھوٹ اور باطل کا ساتھ دینے کی ٹھان لی ہے!


تحریر: مسعود

Pegham Columns

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW