تیرے بغیر
میں نے تجھ کو بہت یاد کیا ہے
دل کے معمورے میں آباد کیا ہے
روٹھ کر جانے والے
مجھ کو تڑپانے والے
تیری یاد میں میں نے
دن گذارے ہیں کیسے
کاش تو آکر دیکھے
بھیگے ہیں نین جھروکے
دل کی گہرائیوں سے
آتی ہے صدا یہ
دل کی دھڑکنوں کو دل سے
کیا ہے جدا تو نے
تو سمجھتی ہے یہ کہ
نہ جئیں گے بن تیرے
مگر یہ محسوس تو کر
اک لمحے کی سکت تو بھر
تیرے بن جی سکتے ہیں
جامِ غم پی سکتے ہیں
محفل سے دور تنہائی سے دوستی کر لی
تیرے ہونٹوں سے نہیں تو کیا تصویر سے مستی کر لی















Add Comment