Categories

جنوری 2019
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 123456
78910111213
14151617181920
21222324252627
28293031 
بزمِ سخن رومانٹک شاعری

میرے رشکِ قمر تیری پہلی نظر

میرے رشکِ قمر تیری پہلی نظر

میرے رشکِ قمر تیری پہلی نظر

.غزل

[spacer size=”10″]

میرے رشکِ قمر تو نے پہلی نظر جب نظر سے ملائی مزا آگیا

برق سی گر گئی کام ہی کر گئی آگ ایسی لگائی مزا آ گیا

جام میں گھول کر حسن کی مستیاں چاندنی مسکرائی مزا آگیا

چاند کے سائے میں اے میرے ساقیا تو نے ایسی پلائی مزا آگیا

نشہ شیشے میں انگڑائی لینے لگا بزمِ رنداں میں ساغر کھنکنے لگے

میکدے پہ برسنے لگی مستیاں جب گھٹا گھِر کے چھائی مزا آ گیا

 بےحجابانہ وہ سامنے آ گئے اور جوانی جوانی سے ٹکرا گئی

آنکھ اُنکی لڑی یوں میری آنکھ سے دیکھ کر یہ لڑائی مزا آگیا

آنکھ میں تھی حیا اور ملاقات پر سرخ عارض ہوئے وصل کی بات پر

اس نے شرما کے میرے سوالات پہ ایسے گردن جھکائی مزا آگیا

شیخ صاحب کا ایمان بِک ہی گیا دیکھ کرحسنِ ساقی پگھل ہی گیا

آج سے پہلے یہ کتنے مغرور تھے لٹ گئی پارسائی مزا آگیا

اے فنا شکرہے آج بعدِ فنا اس نے رکھ لی میرے پیار کی آبرو

اپنے ہاتھوں سے اس نے میری قبر پر چادرِ گل چڑھائی مزا آگیا

[spacer]

.فناؔ

میرے رشکِ قمر تیری پہلی نظر

 

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW