یاد جو آیا اک واقعہ
یاد آیا جو اک واقعہ تو زخموں کے منہ کھل گئے
اتنا بہا خونِ جگر الزام میرے دھل گئے
بھٹکے پھریں ہم دن بھر، چین ملے تو کیوں کر
رات ہوئی جو کالی میکدوں کے در کھل گئے
کس سے کریں آہ و زاری، ہم پہ ہوئی جو سنگباری
وہ جو تھے مسیحا وہ قاتلوں سے مل جل گئے
وہ جو تھے نازاں اپنے ارادوں کی پختگیوں پر
ہاتھ آئی دولت، تو دولت کے عوض تل گئے
تو بھی نہ رکھ سکا بھرم ناکام وفاؤں کا مسعودؔ
تیری پلکوں سے ٹپکے پانی سے بھید سب کھل گئے
بحر:مقتضب مثمن سالم
Meri Shaairi: Yaad Jo Aaya Ik Waqeya















Add Comment