یاد جو آیا اک واقعہ
یاد آیا جو اک واقعہ تو زخموں کے منہ کھل گئے
اتنا بہا خونِ جگر کہ الزام سب دھل گئے
بھٹکے پھریں ہم دن بھر، سکون ملتا تو کیوں کر
رات ہوئی اندھیری، میکدوں کے در کھل گئے
کس سے کریں آہ و زاری، ہم پہ ہوئی جو سنگباری
وہ جو تھے مسیحا، وہ قاتلوں سے مل جل گئے
وہ جو تھے نازاں اپنے ارادوں کی پختگیوں پر
ہاتھ جو آئی دولت، تو دولت کے عوض تل گئے
تو بھی نہ رکھ سکا بھرم ناکام وفاؤں کا مسعودؔ
تیری آنکھوں کے آنسوؤں سے سب راز کھل گئے
Meri Shaairi: Yaad Jo Aaya Ik Waqeya















Add Comment