صحرا صحرا
منزل کی جستجو میں بھٹک رہا ہوں صحرا صحرا
لوگوں سے بھری وادی ہے اور میں ہوں تنہا
دو قدم اٹھتے ہیں تو یاد آتی ہے کسی بے وفا کی
جس کی وجہ سے ہوں میں اس دنیا میں اکیلا
خیالوں پر چھائی رہتی ہے ایک ہی صورت
وہ صورت جس نے مجھ سے کیا ہے دغا
وہ صورت جس نے ساتھ جینے مرنے کا وعدہ کیا
جس پہ کیا اعتبار وہی شخص نکلا بے وفا
کسی سے نہ کر اس کی بے وفائی کا گلہ مسعودؔ
اس دنیا میں سب ہیں جداجدا کوئی نہیں اپنا

Meri Shaairi: Sehra Sehra














Add Comment