تیری یاد نے کیا ہے
تیری یادوں نے کیا ہے میرے دل کو بے قرار بہت
تجھ کو بھول جاؤں میں یہ بھی ہے ناگوار بہت
چلے آؤ کہ میرے دل کو کچھ تو آس ملے
گرچہ راہ میں حائل ہیں اب دیوار بہت
غم کی بندش ہے، اداسی ہے، دل ہے اور میں
ملی ہے وہ زندگی جو ہے سوگوار بہت
دھڑکنیں دل کی ترے نام کی پابند ہوئیں
ترے وعدوں پہ دل کو تھا ہی اعتبار بہت
تمنا میں تیری موسم بدلے بدلی ہیں رتیں کئی
ہم رہے مضطر اداس گزری ہے بہار بہت
تری یادوں نے لگائی ہے دل میں آگ میاں
تیری فرقت میں ہوئیں آنکھیں اشکبار بہت
وقت بدل جائے گا سکون بھی آ جائے گا
پھر اسے یاد آئے گا مسعودؔ کا پیار بہت
dar o deewar, dhadkan, dil e beqrar, sogwar, urdu poetry, urdu post, urdu forum, shayeri urdu, zindagi shayeri.














Add Comment