Categories

جنوری 2019
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 123456
78910111213
14151617181920
21222324252627
28293031 
بزمِ سخن گلدستۂ غزل

بھڑکائیں میری پیاس کو اکثر تری آنکھیں

بھڑکائیں میری پیاس کو اکثر تری آنکھیں
بھڑکائیں میری پیاس کو اکثر تری آنکھیں    –   غزل
[spacer]

بھڑکائیں میری پیاس کو اکثر تری آنکھیں
صحرا مرا چہرہ ہے، سمندر تری آنکھیں
پھر کون بھلا دادِ تبسم انہیں دے گا
روئیں گی بہت مجھ سے بچھڑ کر تری آنکھیں
خالی جو ہوئی شامِ غریباں کی ہتھیلی
کیا کیا نہ لٹاتی رہیں گوہر تری آنکھیں
بوجھل نظر آتی ہیں بظاہر مجھے لیکن
کھلتی ہیں بہت دل میں اُتر کر تری آنکھیں
ممکن ہو تو اک تازہ غزل اور بھی کہہ لوں
پھر اوڑھ نہ لیں خواب کی چادر، تری آنکھیں
میں سنگ صفت ایک ہی راستے میں کھڑا ہوں
شاید مجھے دیکھیں گی پلٹ کر تری آنکھیں
یوں دیکھتے رہنا اُسے اچھا نہیں محسنؔ
وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر، تری آنکھیں

[spacer size=”30″]
شاعر: محسن نقوی

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW