قدم قدم پہ جنہیں بخشا ہم نے پھولوں کا ہار
قدم قدم پہ جنہیں دیا ہے پھولوں کا ہار
لیے راہ میں وہ کھڑے ہیں کانٹوں کی باڑ
جن کی محبتوں کے دعوے تھے بلند و بالا
سہمے گئے ہیں دیکھتے ہی وہ سماج کا پہاڑ
جس کے پیار کو دل میں بسایا ہے مسعود
اسی نے تیرے پیار کے محل میں ڈالی ہے دراڑ















Add Comment