عہد
قسم خدا کی یہ دنیا کب ہم کو جدا کر سکتی ہے
انساں کو بس محبت ہی وصلِ خدا کر سکتی ہے
نام ہے تیرا ہونٹوں کی زینت،یہ زینت کبھی کم نہ ہوگی
میں نے کی ہے تجھ سے محبت، یہ الفت کبھی کم نہ ہوگی
تو ہی میری تنہائی کا ساتھی، تو ہی میرا ہمراہی
تیرا حسن ہے پیار کی منزل، میرا عشق ہے راہی
حق میں ہمارے بددعا ہی پاگل دنیا کر سکتی ہے
روزِ اوّل سے میرے دل میں تیری ہی صورت، تیری ہی مورت
میں نے بنایا ہے تجھ کو قسمت، تو بھی بنا لے مجھ کو قسمت
عہدِوفا ہے تجھ سے ساجن، تو ہی بنی میرے پیار کی جنت
پیار کا وعدہ تجھ سے کیا ہے، تو ہی ہے میرے پیار کی عزت
مجھ کو اپنے دل میں چھپا لو، کب زندگی وفا کر سکتی ہے
قسم خدا کی یہ دنیا کب ہم کو جدا کر سکتی ہے
انساں کو بس محبت ہی وصلِ خدا کر سکتی ہے















Add Comment