آجاؤ اب
ناکام آرزؤں کا جنازہ اٹھ گیا ہے‘ اب تو آجاؤ
وادئِ دل کا دروازہ کھلا ہے‘ اب تو آجاؤ
تیرے آنے کی نوید آئی تو وادئ دل کا ذرہ ذرہ
آس کے غالیچوں سے سجا دیا ہے‘ اب تو آجاؤ
نگاہوں کی نشست پہ بٹھائیں گے دل کا قرار بنا کر
بڑی شدت سے اس لمحے کا انتظار کیا ہے‘ اب توآجاؤ
بہت سے جنم بیتے ہیں‘ بہت سے موسم بدلے ہیں
جانِ چمن‘ چمن تیرا مرجھانے لگا ہے‘ اب تو آجاؤ
دید کی پیاسی ان آنکھوں کو اور مت ستاؤ
تمہاری یاد میں دن رات ایک کر دیا ہے‘ اب تو آجاؤ
اب تو آجاؤ کہ دل کی دھڑکنوں نے بھی کہہ دیا ہے
تم نہ آئے تو زندہ رہنے میں کیا مزا ہے‘ اب تو آجاؤ

aarzu poetry, urdu sad poetry, naveed, nigah poetry, mausam, chaman, dhadkan poetry
مسعودؔ














Add Comment