Categories

جنوری 2019
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 123456
78910111213
14151617181920
21222324252627
28293031 
بزمِ سخن گلدستۂ غزل

اب کیا سوچے کیا ہونا ہے جو ہو گا اچھا ہو گا

اب کیا سوچے کیا

اب کیا سوچے کیا ہونا ہے جو ہو گا اچھا ہو گا

اب کیا سوچے کیا ہونا ہے جو ہو گا اچھا ہوگا
پہلے سوچا ہوتا پاگل، اب رونے سے کیا ہوگا
یار سے غم کہہ کر تو خوش ہو لیکن تم یہ کیا جانو
تم دِل کا رونا روتے تھے وہ دِل میں ہنستا ہو گا
آج کسی نے دِل توڑا تو ہم کو جیسے دھیان آیا
جس کا دِل ہم نے توڑا تھا وہ جانے کیسا ہو گا
میرے کچھ پل مجھ کو دیدو باقی سارے دِن لوگو
تم جیسا جیسا کہتے ہو سب ویسا ویسا ہو گیا
[spacer size=”30″]

شاعر: ؟

مجھے صرف وہ چند ایک لمحے دیدو جنہیں میں اپنا کہہ سکو، مجھے نہیں طلب سازوساماں کی نہ ہی ہوس ہے زمین و آسمان کی، مجھے صرف چند ایک پل چاہیے کیونکہ میں یہ سمجھتا رہا ہوں کہ میں جس کو اپنے دکھی دل کا حال بتا کر اپنے لیے کچھ حوصلہ حاصل کرتا تھا، کچھ ہمت بندھائی کی امید رکھتا تھا وہ تو میری کہانی سن کر دل ہی دل میں ہنستا رہا ہے، آج مجھے احساس ہوا کہ کوئی اپنا نہیں، کوئی کسی کے دکھ درد کو سن کو ملال نہیں کرتا بلکہ لوگ دوسروں کے دکھ درد پر ہنستے ہیں، میں پاگل تھا، دیوانہ تھا مگر اس دیوانگی میں یہ کیوں بھول گیا کہ آج مجھے چوٹ لگی ہے تو میں تڑپ اٹھا ہوں، کبھی میں نے اسکی نسبت سوچا ہے جسکا دل میں نے دکھایا تھا، وہ کس حال میں ہو گا؟

نصرت فتح علیخان کا خوبصورت انداز ۔۔۔

[embedyt]https://www.youtube.com/watch?v=z_DFIkcKJL8[/embedyt]

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW