Categories

فروری 2019
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
25262728 
اشعار بزمِ سخن

تجھے کیا خبر میرے بے خبر

تجھے کیا خبر میرے بے خبر

غزل

تجھے کیا خبر، مرے بیخبر، مرا سلسلہ کوئی اور ہے
جو مجھی کو مجھ سے بہم کرے، وہ گریزپا کوئی اور ہے

مری کشتِ دل، مری فصلِ جاں، کبھی ہو گی وادئ مہرباں
مگر اب روش ہے جدا کوئی، مگر اب ہوا کوئی اور ہے

یہی شہرشہرِقرار ہے تو دلِ شکستہ کی خیر ہو
مر آس ہے کسی اور سے مجھے پوچتا کوئی اور ہے

دلِ زود رنج نہ کر گلہ کسی گرم و سرد رقیب کا
رُخِ ناسزا تو ہے روبرو، پسِ ناسزا کوئی اور ہے

ہے محبتوں کی امانتیں، یہی ہجرتیں، یہ قربتیں
دئیے بام و در کسی اور نے تو رہا بسا کوئی اور ہے

ہے نصیرؔ شامِ سپردگی، ابھی تیرگی، ابھی روشنی
بکنارِ گل ذرا دیکھنا، یہ تمہی ہو یا کوئی اور ہے

تجھے کیا خبر میرے بے خبر

شاعر: نصیرترابی

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW