Categories

نومبر 2018
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
2627282930 
شب و روز میری شاعری

سہاگ رات

Meri Shairi: Suhag Raat
سہاگ رات

سینے سے لگانے پر

شدتِ پیاس مزید بڑھی تو سینے لگی جس دم
اٹھارہ برس تجھے سینے لگانے کوبے قرار رہے ہم

اب آئی جو بانہوں میں تو ان برسوں کی پیاس بجھا دو
ہونٹ سے ہونٹ دور کیوں رہیں کر دو یہ فاصلہ کم

اس قدر قریب آگئے کہ گال سے گال ٹکرانے لگے
سانس سے سانس ٹکرانے لگیں، دور ہوئے سب غم

انگشت تیری میرے لبوں پہ، میری تیرے لبوں پر
نگاہیں چار ہوئیں تو دل چاہا تجھے چوم لوں صنم

ہونٹ تو نے ہلائے تو دل سنبھل نہ سکا میرا
تو بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی، ایک ہو گئے ہم


بوسہ لینے پر

بحت بلند ہیں جبھی دہکتا شعلہ ہونٹوں میں لیتا ہوں
آہ بھی نہیں نکلتی ہونٹوں سے اسقدر میٹھا لگتا ہے
اپنے ہونٹوں کو چھپا لو خدارا، دل مچل اٹھتا ہے میرا
نگاہ جاذب ہو تو ہلانا مت! شک ہونے لگتا ہے

شب بخیر

اگ عجب خو پڑ گئی ہمیں شب سوتے وقت
اپنے بستر پہ تجھے خیال کر کے شب بخیر کہتے ہیں
تیرے ماتھے کو چوما، ہل گئے تو دیکھا تکیہ تھا
کتنے بدخو ہو گئے ہیں کہ تیرے ہی ساتھ سوتے ہیں

صبح بخیر

قطرے نیساں کے سمجھا میں موتی تیری زلفوں کے
میرے رخ پرتیری زلفیں پریشاں ہوئیں، نہانے کے بعد

میرے بالوں میں ترا انگلیاں پھیرنا، چھاتی پہ سر رکھنا
اور سلسہَ خواب بندی ٹوٹنا، تیرا جگانے کے بعد

میرے ہونٹوں پہ اپنی شہادت کو پھیرنا اور شرمانا
زلفوں کی اوٹ سے تیرے ہونٹوں کا ہلنا، مسکرانے کے بعد

صبح بخیر کہنا تیرا، میرا بوسہ لینا اور یہ تیرا حجاب
اس قدر شرمانا کیا مطلب؟ زندگی میں آنے کے بعد

سہاگ رات

مسعود

Suhag Raat, Bosa, Shaadi ki raat, Romantic Urdu poetry, Urdu poetry

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW