بقیدغم
ابھی تک ہوں بقیدِ غم دوستو
لب ہیں خاموش‘ آنکھیں نم دوستو
جگر ہے چھلنی‘ دھڑکن محکوم دوستو
تمہارے ہی انتظار میں رہے ہم دوستو
قیدِ غم بھی ہے عجب ستم دوستو
دکھ ہیں زیادہ سکھ کم دوستو


Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.
Add Comment