آواز
پریشاں حال، افسردہ دلی‘ طبیعت نا ساز سی ہے
خیالوں کی وادی میں گونجتی، یہ اک آواز سی ہے
وہ نازنین، وہ مہ رخ، گلرنگ اچنبا سی ہے
حسن کی وہ لاثانی‘ قد کی دراز سی ہے
سوال کرتے ہو‘ تمہیں بتاؤں تو میں کیا بتاؤں؟
عہد جو کیا تھا اس سے وہ بات راز سی ہے
ڈر ہے کہ یہ راز افشا نہ ہو جائے کہیں
وہ کامنی سی مورت بدن کی گلناز سی ہے
ڈر ہے کہ وہ شعلہ رخ جلا نہ دے ہمیں
شعلہ انگیز ادا اس کی ناز و نیاز سی ہے
لن ترانی پہ آ جائیں تو مکھ نہیں دکھلاتے
ہر نظر اسکی مسعود محشر کے انداز سی ہے

Meri Shairi: Aawaz














Add Comment