تجھے خوابوں میں ملنا تھا
تجھے خوابوں میں ہی ملنا تھا، تو خوابوں میں ملی
وفا زمانے سے نابود ہو چکی، ہاں کتابوں میں ملی
ارمانوں کی آگ میں سلگنا محبوب ہو چکا ہے ہمیں
جاکر بھنور میں دیکھا، اپنی قسمت گردابوں میں ملی
پیار کا رستہ اک ایسا رستہ، جس کا اخیر نہ کوئی
پیار کے امتحانوں کی گنتی مجھے شہابوں میں ملی
کبھی صنم کو مناؤں تو کبھی سماج کی دیواریں گراؤں
جب بھی اک سانس رک کر سوچا، جان عذابوں میں ملی

Meri Shairi: Tujhey Khawabon Hi Mein Milna Tha














Add Comment