Categories

مارچ 2019
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
25262728293031
ساغرصدیقی

کلامِ ساغر: اگرچہ ہم جا رہے ہیں

کلامِ ساغر: اگرچہ ہم جا رہے ہیں – agarcheh hum jaa rahe hain mehfil se nala e dilfigar ban kar

کلامِ ساغر:   اگرچہ ہم جا رہے ہیں

اگرچہ ہم جا رہے ہیں محفل سے نالۂ دلفگار بن کر
مگر یقین ہے کہ لوٹ آئیں گے نغمۂ نو بہار بن کر

یہ کیا قیامت ہے باغبانو! کہ جن کی خاطر بہار آئی
وہی شگوفے کھٹک رہے ہیں تمہاری آنکھوں میں خار بن کر

جہاں والے ہمارے گیتوں سے جائزہ لیں گے سسکیوں کا
جہان میں پھیل جائیں گے ہم بشر بشر کی پکار بن کر

یہار کی بدنصیب راتیں بلا رہی ہیں چلے بھی آؤ
کسی ستارے کا روپ لے کر کسی کے دل کی قرار بن کر

تلاش منزل کے مرحلوں میں یہ حادثہ اک عجیب دیکھا
فریب راہوں میں بیٹھ جاتا ہے صورت اعتبار بن کر

غرور مستی نے مار ڈالا وگرنہ ہم لوگ جی ہی لیتے
کسی کی آنکھ کا نور ہو کر کسی کے دل کا قرار بن کر

دیارِ پیر مغاں میں آ کر یہ اک حقیقت کھلی ہے ساغرؔ
خدا کی بستی میں رہے والے تو لوٹ لیتے ہیں یار بن کر

شاعر: ساغرصدیقی


About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW