ضبط کرنا میرے دل یہ سزا بہار کی ہے
زخم ہوئے ہیں تازہ ابتداء بہار کی ہے
ضبط کرنا میرے دل یہ سزا بہار کی ہے
اے نسیمِ سحر جاؤ جو ان کے نگر تو کہنا
‘کرب کی آہوؤں میں ڈھلی وفا بہار کی ہے
ہجر کا بادل ہے چھایا اور شامِ غم کٹھن
دل نے تجھ کو پکارا کہ ابتداء بہار کی ہے’
کیوں کر پونچھیں گے ہم آنکھوں میں آئے اشک
کہ اشکوؤں سے بھیگی ہوئی ردا بہار کی ہے
تیری محفل میں آ تو جائیں پر کیسے آئیں ہم؟
پاؤں میں ہیں سلاسل تو چاک قبا بہار کی ہے
ہم ٹھہرے صحرا نورد، کیا کام ہمیں شہر سے
خوشی رہو، سکھی بسو، یہی صدا بہار کی ہے
شاید ہی مسعود ہو گا کوئی فرازؔ سے ناآشنا
“کہ آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے”














Add Comment