بہانے دلدار کے
خونِ جگر سے کیے ہیں روشن دیپ پیار کے
بے جان کیوں ہیں یارب بہانے دلدار کے
شکوہ تجھ سے نہ کریں گے کبھی بھولے سے ہم
اڑا بھی دئیے گئے گر پرزے تیرے یار کے
یہ کیسی دنیا ہے تیری یارب تو ہی بتا دے
میں نے ڈھونڈے نہ پائے ہمدرد نادار کے
میں کہاں تلاش کروں دردِ عشق کی دوا
کہیں نہ دھو سکا داغ، دلِ بے قرار کے
چند لمحوں کی یہ زندگی تیرے نام کی
دید کی امید میں ہیں ستم کش انتظار کے















Add Comment