اوپن لیٹر ٹو اے آر وائی
پیش لفظ: یہ خط میں نے 2006 میں اے آر وائی کو لکھا! جب بیہودہ اشتہارات کی بھرمار ہونے لگی تھی اور ڈراموں میں بیہودگی دکھائی جانے لگی۔۔۔! اس وقت یورپ میں پی ٹی وی اور اے آر وائی واحد پاکستانی چینلز دکھائے جا رہے تھے۔۔۔!
محترم پروگرام انچارج اے آر وائی
وقت گزر رھا رہے اور مقابلہ سخت ہوتا جا رہا ہے۔! اپنی سبسکرپشن کو بڑھانے کے لیے سستے اور غیر معیاری پروگرامز پیش کیے جا رہے ہیں!
اے آر وائی پر اخلاق سوز اشتہارات کی روزبروز بھرمار ہو رہی ہے، جس میں عورتوں کو چند مخصوص لباس میں دکھایا جا رہا ہے،بکینی اور برا اشتہاروں کی زینت بن رہےہیں اور میں ننگی اور نیم عریاں عورتوں کو دکھانے پر اے آر وائی کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ ہندوستان کے ساتھ حال ہی میں سمجھوتے ہوئے ہیں اور سمجھوتہ دوستی کے نام پر دلوں کو قریب لانے کے لیے سستی اور گھٹیا شہرت پانے کے لیے انڈین پروگرامز کی بھرمار سے آپ نے لوگوں کے ذہنوں میں غلاظت بھرنی شروع کر دی ہے،جس پر آپ کو مبارک دینی چاھیے۔!
تقریباً ہر تفریحی پروگرام میں انگریزی کی بھر مار- آپ تو واقع پاکستانیت کو عروج دے رہے ہیں، بہت خوب پاکستانی تجھے سلام!!
“کبھی نہ کبھی” جیسے بیہودہ ڈرامون سے لڑکیوں کو فلرٹ اور عیاشی کا جو انداز سکھایا جا رہا ہےوہ انتہائی قابل ِ تعریف ہے۔تفریح کے نام پر بہت اعلیٰ کام کر رہے ہیں آپ لوگ، مبارک باد قبول کیجیے۔
جب عریانیوں کا باب لکھا جائے گا تو اے آر وائی کی نشریات کو شامل کیا جائے گا، آپ کو شاید اپنے پروگرامز پر فخر ہے مگر آپ لوگوں کے اخلاقیات کے ساتھ بہت ہی بری طرح کھیل رہے ہیں۔۔۔
وعلیکم السلام
مسعود
پیغام ایڈمن

مسعود














Add Comment