Categories

دسمبر 2018
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31 
شب و روز میری شاعری

اشعار

Meri Shairi: Ashaar
Ashaar

اس کی آنکھوں میں اداسی کس کے نام کی تھی
پیلی پیلی سی رنگت رخِ گلفام کی تھی

سخت ترین ہو چلی تھی جب ایام کی تلخیاں
برس رہی تھیں خرمن پہ چار سو بجلیاں
گھٹا ٹوپ اندھیرے میں راہیں کھو چکی تھیں
میرے جیون میں تیری نمو سے ہو گئی روشیناں

شاید تیری واپسی کا کوئی راستہ نہیں رھا
در مقفل نہ کرو کہ اب دھڑکا نہیں رھا
آنے پر لاکھ منتیں، جانے کا اک بہانہ
کیسے تمہیں روکیں کہ اب بہانہ نہیں رھا

یہ یاد کس کی آئی کہ چشم تر ہو گئی
عیاں بھیگی پلکوں سے تو اگر ہو گئی
کیا کہیں گے دنیا والے سوچا ہے تو نے کبھی
چھوڑ کر بیچ بھنور مجھ کو خود ساحل پر ہو گئی

محبت میں یہ زہر بھی اب پینا پڑے گا
اک زندہ لاش کی طرح جینا پڑے گا

گردشِ دوراں میں کھو چکا ہوں مجھے آواز نہ دو
میں اپنے حصے کا رو چکا ہوں مجھے آواز نہ دو

مسعودؔ

Ashaar

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW