الفت، محبت، عشق، جنون
راز اب فاش ہوا ہے مجھ پر دل کی اس بے زاری کا
دیکھ لو یہ ہوا ہے حال زندگی الفت کی ماری کا
زندگی کی بے راہ رویوں کا نشانہ دلِ ناداں کیوں
پیار تو کرنا کوئی جرم نہیں ہے پھر دشمن جہاں کیوں
دل کی یہ مجبوریاں ان آنکھوں سے برسے تو پانی
دل جلوں کا انمول خزانہ دنیا سمجھے تو پانی
میری آنکھوں میں آنسو اے دوست وفاوں کا صلہ ہے
آہیں بھری تو میں نے یہ جانا کہ پیار کرنا خطا ہے
ہائے اب میں سمجھا ہوں کیا ہے حاصل عشق و الفت
دو دن کی یہ ملاقاتیں ہیں اور پھر مدتوں کی فرقت
رسوا کرتا ہے یہ عشق زمانے میں دیوانہ بنا کر
اور کبھی جلاتا ہے محبوبہ سے پروانہ بنا کر
ساحل پر لا کر کبھی یہ ساحل ہی چھوڑا دیتا ہے
کشتی کبھی ڈبو کر یہ دریا ہی میں بہا دیتا ہے
اس کے اصول عجب ہیں کبھی صلیب نصیب بناتا ہے
رکھتے نہیں جو قربِ دل وہ ہی حبیب نصیب بناتا ہے
خونِ جگر پی پی کر یہ بیماری حیات پاتی ہے
لاکھوں غم کی راتوں کے بعد اک سکون کی رات آتی ہے
تڑپ تڑپ کے جینا ہی اب اس کے غم کا مداوا ہے
ایسا ہی ہوتا جائے گا تا عمر ایسا ہی ہوا ہے
اس بحر میں استاد شعرا کا کلام ملاحظہ فرمائیے:
بھول گئے تم جن روزوں ہم گھر پہ بلائے جاتے تھے (جرأت)
نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بھول گیا (میرا جی)
ہر دھڑکن ہیجائی تھی، ہر خاموشی طوفانی تھی (جون ایلیا)
تو بھی چپ ہے میں بھی چپ ہوں یہ کیسی تنہائی ہے (جون ایلیا)















Add Comment