Categories

دسمبر 2018
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31 
شب و روز میری شاعری

محبت

Meri Shairi: Muhabbat
Muhabbat
راز اب مجھ پر فاش ہوا دل کی بے قراری کا
دیکھ لو یہ حال زندگی، محبت کی ماری کا
حالات کے تیروں کا نشانہ، دلِ ناداں کیوں؟
پیار کرنا تو جرم نہیں، پھر دشمن جہاں کیوں؟
دل کی مجبوری آنکھ سے برسے تو پانی
دل والوں کا انمول خزانہ، دنیا سمجھے تو پانی
میری آنکھوں میں آنسو، وفا کا صلہ ہے
آہیں بھری تو جانا کہ پیار کرنا خطا ہے
اب میں سمجھا کہ کیا ہے محبت کی حقیقت
دو دن کی ملاقات کے بعد، مدتوں کی فرقت
رسوا کرتی ہے یہ زمانے میں دیوانہ بنا کر
کبھی جلاتی ہے محبوبہ سے پروانہ بنا کر
کبھی ساحل پہ لا کر ساحل چھوڑ دیتی ہے
کبھی نیّا ڈبو کے، دریا میں بہا دیتی ہے
اس کے کھیل عجب، کبھی صلیب نصیب بناتی ہے
جو ہوتے ہیں ناپسند، وہ حبیب نصیب بناتی ہے
رگوں کا لہو پی کر حیات پاتی ہے
ہزار شبِ غم کے بعد اک سکون کی رات آتی ہے
تڑپ تڑپ کر جینا اسکی اداسی کا مداوا ہے
ایسا ہی ہوتا جائے گا، ایسا ہی ہوا ہے

Meri Shairi: Muhabbat

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW