Categories

مارچ 2021
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
1234567
891011121314
15161718192021
22232425262728
293031 
گلدستۂ غزل

یہ صلہ ملا ہے مجھ کو

یہ صلہ ملا ہے مجھ کو
یہ صلہ ملا ہے مجھ کو یہ صلہ ملا ہے مجھ کو یہ صلہ ملا ہے مجھ کو یہ صلہ ملا ہے مجھ کو  یہ صلہ ملا ہے مجھ کو

یہ صلہ ملا ہے مجھ کو تیری دوستی کے پیچھے
کہ ہزاروں غم لگے ہیں میری زندگی کے پیچھے

نہ تو دل کا کوئی مقصد نہ تو میری کوئی منزل
میں چلا ہوں کیوں نجانے کسی اجنبی کے پیچھے

تیرے آستاں سے سر کو میں اٹھاؤنگا نہ ہر گز
میں کہاں کہاں نہ بھٹکا تیری بندگی کے پیچھے

مجھے کہہ کے تم شرابی نہ کرو جہاں میں رسوا
کوئی راز بھی تو ہو گا میری میکشی کے پیچھے

کوئی ان سے جا کے اتنا ذرا اے شکیلؔ کہہ گے
میں ہوا جہاں میں رسوا تیری عاشقی کے پیچھے

شاعر: شکیل بدایونی

تم نے تو مجھ سے کہا تھا کہ مسعود میں تمہاری زندگی کو دائمی خوشیوں سے بھر دونگی !
پر یہ کیا کہ تمہارے پیار میں ، تمہاری دوستی میں مجھے یہ صلہ ملا؟
کہ تمام عمر میری اب آہوں میں، حسرتوں میں، ندامیوں میں، کرب میں گزرنے لگی!
میری مثال تجھ بن اب ایسے ہی ہے جیسے ایک بے منزل راہرو! جسکی کوئی منزل نہ ہو!
جوادھرسے ادھردن بھر بھٹکتا پھرے اور پھر کھڑا سوچے کہ میں کس اجنبی کی تلاش میں ہوں؟
اور جب کبھی مجھے تمہارا نقش پا مل ہی جائے تو میں اسی کو اپنی منزل سمجھ لونگا! میں یہاں سے
کہیں نہیں جاؤنگا کہ میں کہاں کہاں سے بھٹک کر ادھر آیا ہوں!
میری حالت کو لوگ میخوری سمجھ بیٹھے ہیں، کیوں مسعود میاں کو بدنام کرتے ہو؟
میں نے کب پی ہے؟ اور اگر کبھی پی بھی لی ہے تو اسکے پیچھے کیا راز ہے – تم کیا جانو!
اے شکیل! او شکیل! جب کبھی اس سے تیرا سامنا ہوا تو اسے میرا پیغام دیدینا:
میں کہاں کہاں رسوا نہ ہوا اک تیرے دیدار کے لیے!!!

تبصرہ مسعود

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW