Categories

دسمبر 2023
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
25262728293031
تنہا تنہا

تو نے دیکھا ہی نہیں مجھ کو تجھے کیا معلوم

Ahmed Faraz
منسوبہ سے 

تو نے دیکھا ہی نہیں مجھ کو تجھے کیا معلوم
وقت نے آج کے سونپ دیا ہے تُجھ کو
کس کے دامن سے ہے باندھا گیا پلوتیرا
کس سے تقدیر نے وابستہ کیا ہے تُجھ کو

تیرے ہونٹوں پہ تو ہیں شرم وحیا کی مہریں
تیرے ماں باپ نے کیوں نرخ ترابول دیا
کالے بازار میں نیلام اُٹھا کر تیرا
سبز باغوں کے تصور پہ تجھے تول دیا

جو سجائی گئی فردوس نمائش کےلیے
وہ کسی اور کی تعمیر ہے میری تو نہیں
یہ مکانات،یہ جندریہ،یہ دکانیں،یہ زمیں
میرے اجداد کی جاگیر ہے میری تو نہیں

میں تو آوارہ ساشاعرہوں مری کیا وقعت
ایک دوگیت پریشان سے گالیتا ہوں
گا  ہے گا ہے کسی نا کام شرابی کی طرح
ایک دوزہر کے ساغر بھی چڑھا لیتا ہوں

تو کہ اک وادی گلرنگ کی شہزادی ہے
دیکھ بیکار سے انساں کےلیے وقت نہ ہو
تیرے خوابوں کے جزیروں میں بڑی رونق ہے
ایک انجان سے طوفاں کےلیے وقف نہ ہو

سوچ ابھی وقت ہے حالات بدل سکتے ہیں
ورنہ اس رشتہ بے ربط پہ پچھتائے گی
توڑ ان کہنہ رسومات کے بندھن ورنہ
جیتے ہی موت کے زنداں ہیں اُترجائے گی

احمدفراز – تنہا تنہا


 

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW