Categories

دسمبر 2023
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
25262728293031
تنہا تنہا

اب جو کانٹے ہیں دل میں تمناؤں کے پُھول تھے

Ahmed Faraz
اب جو کانٹے ہیں دل میں تمناؤں کے پُھول تھے

اب جو کانٹے ہیں دل میں تمناؤں کے پُھول تھے
آج کے زخم پہلے شناؤں کے پُھول تھے

دشت غربت کچھ ایسا ہوا گل فشاں گل فشاں
جس طرح پُھوٹتے آبلے پاؤں کے پُھول تھے

تھی ہمیں کو بہت خارزار جنوں کی لگن
دوستو!ورنہ اقوال داناؤں کے پُھول تھے

غم کی لو سے دھڑکتے دلوں کے کنول بجھ گئے
دُھوپ میں کیسے کھلتے وہ جو چھاؤں کے پُھول تھے

برف زاروں میں کوئی اگر یہ سماں دیکھتا
جابجا نقش پاکوہ پیماؤں کےپُھول تھے

شہر میں حسن سادہ کو کانٹوں میں تولاگیا
بِک گئے کوڑیوں مول جو گاؤں کے پُھول تھے

زہر آگیں فضا بستیوں کی جنھیں کھا گئی
ہم فراؔز ایسے سنسان صحراؤں کے پُھول تھے

احمدفراز – تنہا تنہا


 

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW