پروین شاکر – مجموعۂ کلام: خوشبو
الجھن
رات ابھی تنہائی کی پہلی دہلیز پہ ہے
اور میری جانب اپنے ہاتھ بڑھاتی ہے
سوچ رہی ہوں
ان کو تھاموں
زینہ زینہ سناٹوں کے تہہ خانوں میں اُتروں
یا اپنے کمرے میں ٹھہروں
چاند مری کھڑکی پر دستک دیتا ہے

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.
Add Comment