پروین شاکر – مجموعۂ کلام: خوشبو
کشف
ہونٹ بے بات ہنسے
زلف بے وجہ کھلی
خواب دکھلا کہ مجھے
نیند کس سمت چلی
خوشبو لہرائی میرے کان میں سرگوشی کی
اپنی شرمیلی ہنسی میں نے سنی
اور پھر جان گئی
میری آنکھوں میں تیرے نام کا تارا چمکا!

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.
Add Comment