اس رہگذر میں کانٹے ہیں
مشکل ہیں محبتوں کی منزلیں اس کی رہگذر میں کانٹے ہیں
پھولوں سے بھرا ہی ہو گا یہ جہاں پر میری نظر میں کانٹے ہیں
اک بات تو تُو نے بھی آزمائی ہی ہو گی اے دوست
کل تلک جس میں پھول تھے آج اسی سفر میں کانٹے ہیں
یہ ہے دستورِ دنیا، یہ حکم ہے اِن ناخداؤں کا
خوش تو ہیں زروالے، بیزر کے مقدر میں کانٹے ہیں
آزمانے جاتے ہیں آج خدا کی رحمت کہ کیوں
نصیب کی خرابی سے مرے ہی گھر میں کانٹے ہیں
تم آنے کا اقرار تو کرو اے جانِ من کہ ہم!
بچھا دیں گے وہاں گل جس راہگزر میں کانٹے ہیں
کل جب تو نے بے رخی سے میرے در کو چھوڑا
تو دل یہ سمجھا کہ اب میرے گھر میں کانٹے ہیں
عہد و پیماں قول و قرار سبھی تم بھول گئے اے صنم
مسعودؔ تصور میں بھی نہ آؤ کہ میری فکر میں کانٹے ہیں
کلام بحر:بحرِ زمزمہ/ متدارک مسدس مضاعف















Add Comment