Categories

نومبر 2018
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
2627282930 
شب و روز میری شاعری

اس رہگذر میں کانٹے ہیں

کانٹے
اس رہگذر میں کانٹے ہیں

مجبوریوں کا سفر ہے طویل، اس رہگذر میں کانٹے ہیں
پھولوں سے بھرا ہی ہو گا یہ جہاں، پر میری نظر میں کانٹے ہیں

اک بات تو تُو نے بھی آزمائی ہی ہو گی اے دوست
کل تلک جس سفر میں گل تھے آج اسی سفر میں کانٹے ہیں

یہ ہے دستورِ دنیا، یہ حکم ہے اِن ناخداؤں کا
زر والا تو خوش ہے، بیزر کے مقدر میں کانٹے ہیں

آزمانے جاتے ہیں آج خدا کی رحمت کہ کیوں
مقدر کی شکستگی سے میرے ہی گھر میں کانٹے ہیں

تم آنے کا اقرار تو کرو اے صنم کہ ہم!
بنا دیں گے اسے گل و گلزار، جس رہگذر میں کانٹے ہیں

کل جب تو نے بے رخی سے میرے در کو چھوڑا
تو دل یہ سمجھا کہ اب میرے گھر میں کانٹے ہیں

عہدِ وفا چھوڑا، رشتہَ الفت توڑا، اے صنم تو نے
اب خیالوں میں بھی نہ آؤ اے مسعودؔ کہ میری فکر میں کانٹے ہیں

کانٹے


مسعود

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW