خستہ حالی
یارب اس دلِ بے قرار کی خستہ حالی کیوں ہے
جب سے وہ بچھڑے ہیں ہر اک نظر سوالی کیوں ہے
وہ پشیماں کیوں ہوئے ہیں میرے قتل کے بعد
بعدِ قتل اب نیام تلوار سے خالی کیوں ہے
کہتے تھے وہ ہم سے کہ کچھ تو پاسِ دنیا رکھو
خود انہوں نے ہی قسم بے وفائی کی کھالی کیوں ہے
مدتیں بیتیں وہ اب تو یاد بھی نہیں آتے
آج پھر نظروں کے آگے صورتِ جمالی کیوں ہے
ہم بھی اتنے باوفا تھے جتنی ان کی الفت تھی
وہ تو بھولے، ہم نے عادت ہی وفا کی پالی کیوں ہے
کیسے اب لوٹیں گے وہ بیتے ہوئے لمحے مسعودؔ
اک عادت سی ہم نے پھر انتظار کی ڈالی کیوں ہے

Meri Shaairi: Khasta Haali














Add Comment