Categories

نومبر 2018
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
2627282930 
شب و روز میری شاعری

خیالی باتیں

Meri Shaairi: Khiyaali Baatein
خیالی باتیں

میں کب تلک یونہی دیپ چوکھٹ پہ جلا کے رکھوں
وہ شاید آئے نہ آئے کیوں آس بندھا کے رکھوں
وعدوں کو وہ بھول جائے ایسا بے وفا نہیں
پھر کیوں نہ میں ہار پھولوں کے سجا کے رکھوں
کیوں نہ اس کے لیے دل کی سیج سجاؤں
سوسن کے بستر پر تکیہ دل کو بنا کے رکھوں
شبنم افشانی ہو ان کے روشِ ناز تلے
یہ لمحہ رہے قائم دعا یہ حضور خدا کے رکھوں
وہ بیٹھیں آ کے سیج پر لٹاؤں میں اخلاص سے
کانچ سے نازک ان کے بدن کو سجا کے رکھوں
بد زن ہو جائیں گے وہ گر سوتے میں بوسہ لے لیا
تمنا یہ ہے کہ ان کو مہماں بنا کے رکھوں

یہ نظم بحرِ ہندی/ متقارب مسدس مضاعف پر ہے!

خیالی باتیں

مسعودؔ

Meri Shaairi: Khiyaali Baatein

Shab-o-roz

 

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW