خیالی باتیں
میں کب تلک یونہی دیپ چوکھٹ پہ جلا کے رکھوں
وہ شاید آئے نہ آئے کیوں آس بندھا کے رکھوں
وعدوں کو وہ بھول جائے ایسا بے وفا نہیں
پھر کیوں نہ میں ہار پھولوں کے سجا کے رکھوں
کیوں نہ اس کے لیے دل کی سیج سجاؤں
سوسن کے بستر پر تکیہ دل کو بنا کے رکھوں
شبنم افشانی ہو ان کے روشِ ناز تلے
یہ لمحہ رہے قائم دعا یہ حضور خدا کے رکھوں
وہ بیٹھیں آ کے سیج پر لٹاؤں میں اخلاص سے
کانچ سے نازک ان کے بدن کو سجا کے رکھوں
بد زن ہو جائیں گے وہ گر سوتے میں بوسہ لے لیا
تمنا یہ ہے کہ ان کو مہماں بنا کے رکھوں
یہ نظم بحرِ ہندی/ متقارب مسدس مضاعف پر ہے!

Meri Shaairi: Khiyaali Baatein














Add Comment