دور ستاروں میں دنیا بسائی
دووور ستاروں میں دنیا بسائی
آج خیالوں میں بھی ہے تنہائی
کس کو پکاروں؟ کس کو بلاؤں؟
نہیں کوئی ہمدم ، نہیں ہم نوائی
تمناؤں کے بادل، آسوں کی بارش
آب ِ مایوسی میں زندگی بیتائی
دل کا ریشم تسلی کا پیوند
سی دیا لیکے سوزن ِ رسوائی
وصل میں بھی دل اداس رہا
تو کیسا پرجفا ہے ڈالی یہ جدائی

Meri Shaairi: Door Sitaron Mein Duniya Basaii














Add Comment