میرا قصور اسکا صلہ
میری آنکھوں کے آئینے میں عکس دیکھا توُ نے
میرے ہونٹوں کے پیمانے سے پیاس بجھائی توُ نے
میری بانہوں کے قلعے میں پناہ لی توُ نے
مجھے ساتھ چلنے کے لیے کہا ۔ میں چلا
تو تُو نے یہ محسوس کیا کہ
میں نارمل نہیں ہوں
تمہارے ساتھ قدم سے قدم ملا کے چل نہ سکا
تم نے چاند تارے کہے، میں توڑ کے لا نہ سکا
میرے اپاہنج ہونے کا یہ صلہ دیا تُو نے
مجھے دنیا کے صحرا میں تنہا چھوڑ دیا تُو نے
اب تو آبِ حیات بھی زہر سمجھ کر پیتا ہوں میں
زندگی کی تمنا نہیں، بس مرنے کیلے جیتا ہوں میں















Add Comment