میری بھی چند مجبوریاں ہیں
میری بھی چندمجبوریاں ہیں گر مدِ نظر رکھو
اپنی بے گناہیاں مت گنو‘ میری بھی خبر رکھو
نوشتۂ تقدیر ہے یہ اسے ہنس کر قبول کر لو
آج جو کھائی ہے تم نے یاد وہ ٹھوکر رکھو
اے دل‘ طغیانئ جنوں سے سبب تو ہی بتا دے
سب کچھ بہا دیا ہے کچھ تو بخیر رکھو
نوائے دل ہی یہ ہے کہ تو میری ہے
بھلا دیا ہے ہر وعدہ وہ بات تو حاضر رکھو
Meri Shaairi: Meri Bhi Chand Majbooriyan Hain















Add Comment