Categories

نومبر 2018
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
2627282930 
شب و روز میری شاعری

میری خوشی پر

Meri Shaairi: Meri Khushi Per Gham Key Baadal
میری خوشی پر

میری خوشی پر غم کے بادل چھائے ہیں‘ برسے ہیں
سکون کے اک پل کے لیے یہ نین نگوڑے تڑپے ہیں‘ ترسے ہیں

اے کاتبِ تقدیر تو ہی بتا دے کب تک ہو گی ستم ظریفی
میں بھی آخر بندہ ہوں تیرا‘ میرے لیے کیوں بدنصیبی
تیرے اس منطق کو میں مذاق کہوں یا دردمندی
یا تو ہلاھل مجھ کو پلا دے یا پھر کر دے آنسوبندی
نام پہ تیرے آس لگائے بیتے لاکھوں عرصے ہیں

یہ بات واضح ہے اے دل تیرا یہاں کوئی سہارا نہیں
بیچ بھنور وہ ناؤ ہے تو جس کا کوئی کنارا نہیں
ڈبو دے اب یہ کشتی دوراں اس کے سوا کوئی چارا نہیں
ہمیں کوئی چاہے گا کیونکر؟ اس چمن میں کوئی ہمارا نہیں
کس کا ہے انتظار ہمیں ہم کس کے منتظر سے ہیں

چھوڑ اب یہ وصل کی باتیں‘ وصل تجھے نایاب ہے
تو اک ایسا دریا ہے کہ‘ ساحل جس کا کمیاب ہے
تجھ کو جینا ہے آسوں میں‘ آسیں ڈھلی نراسوں میں
تیرا دل ہے شمع جیسے‘ جلتی ہے جو دلاسوں میں
امید پر ہی تو جیے جا‘ دن خوشیوں کے دور تر سے ہیں

سکون کے اک پل کے لیے یہ نین نگوڑے تڑپے ہیں‘ ترسے ہیں
میری خوشی پر غم کے بادل چھائے ہیں‘ برسے ہیں

میری خوشی پر

مسعودؔ

Meri Shaairi: Meri Khushi Per Gham Key Baadal

Shab-o-roz

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW