میری قسمت میں تو نہیں تھی
قسمتِ برگشتہ میں جب تُو نہیں لکھا گیا
کیا خبر تھی میرا یہ تخیل بھی اک گناہ تھا
اُس کے گھر دیر تو تھی، پر نہ تھا اندھیر کچھ
بس اسی موہوم سی اُمید کا دھوکا رہا
تنگ آ کر ٹوٹ جائے گا یہ رشتہ زیست کا
ہر طرف تفرقہ تھا، ذات کا پہرا رہا
حسرتِ ناتمام ہے اب تیرا حاصل اے مِرے دل
تُو نے کیوں سوچا تھا یہ، کیوں یہ خواب دیکھا تھا؟
پردہ داری ہی تو زیور تھی تِرے جذبات کا
راز کیوں کھولا تِرا، کیوں سب سے یہ بولا تھا؟

Meri Shaairi: Meri Qismat Mein Tu Nahin Thi














Add Comment