Categories

نومبر 2018
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
2627282930 
شب و روز میری شاعری

کہ بہت تڑپا ہوں

Keh Bohat Tadpa Hoon
کہ بہت تڑپا ہوں

دیکھ تو کس قدر سوز ہے میری فریاد میں گوری
کہ بہت تڑپا ہوں میں تیری یاد میں گوری

وفا کا انجام تو ہو گیا، بے رخی کی بھی انتہا ہو
اس قدر نہ ہرجائی بن کہ گلی گلی رسوا ہو
کیا مصلحت ہے اس میں، کیوں چھوڑ گئی ہو تنہا مجھے
میں نے یہ ضرور کہا، جب چاہو آزما لینا مجھے
یہ میں نے کب کہا، میرے عَدُو کی ڈولی میں بیٹھ جانا
ہاں ضرور اک روز میری قبر پہ آکر آنسو بہانا
بعد میرے، میری یاد کے لمحے ڈسیں گے باربار تجھے
بن کے میرے جذبات کے ترجمان، کہیں گے باربار تجھے

کہ بہت تڑپا ہوں میں تیری یاد میں گوری
دیکھ تو کس قدر سوز ہے میری فریاد میں گوری

سنوارنے بیٹھے گی جب تو اپنے گیسُو آئینے میں
نظر آئے گی تجھ کو میری صورت ہر سُو آئینے میں
چرائے گی جس سمت بھی نظر، دیکھے گی اک ضُو آئینے میں
تمہارا دل خودبخود بڑھے گا اس سُو آئینے میں
ہو کے بے سُدھ پوچھے گی یہ بات آئینے سے
کہ کیسے ہیں میرے مسعودؔ کے حالات آئینے سے
سن کے آئینے کا جواب تو ہو جائیگی بے قرار گوری
اضطراب بڑھے گا، وہ جب کریگا، میرے دل کا اظہار گوری

کہ بہت تڑپا ہوں میں تیری یاد میں گوری
دیکھ تو کس قدر سوز ہے میری فریاد میں گوری

خیالوں میں گم سم تو جب پہنچے گی اس آستاں پہ گوری
ایک ہی کلمہ پھر ہو گا تیری زباں پہ گوری
‘‘یہ تو ہے میرے مسعودؔ کا گھر، یہ ہے میری جائے عِفَّت‘‘
سانسیں ہو جائینگی پراگندہ، سوچوں میں آجائیگی رِفعَت
پکارے گی تو ہو کے دل کے ہاتھوں مجبور گوری
پہنچے گی تیری آواز اس گھر میں دُور دُور گوری
مگر جواب تجھ کو نہ ملے گا، صنم تجھ کو نہ پکارے گا
ڈھونڈ ڈھونڈ کے اپنے صنم کو دل تیرا ہارے گا
اس ویرانے میں سنائی دیگی تجھے اک صدا گوری
‘ جس حال میں مسعودؔ تھا، اب تو اس میں رہے گی سدا گوری‘

کہ بہت تڑپا ہوں میں تیری یاد میں گوری
دیکھ تو کس قدر سوز ہے میری فریاد میں گوری

کہ بہت تڑپا ہوں

مسعود

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW