آگ لگے اس چمن کو
آگ لگے اُس چمن کو‘ جس کا نگہباں نہ ہو
کاش کوئی مجھ جیسا بے سروساماں نہ ہو
یہ بے بسی‘ مجبوری اور تنہائی عذاب ہے
خدا کرے کہ دنیا میں کوئی بلدِ سنساں نہ ہو
اُس فتنۂ دہر کی شربتی اکھیوں کے صدقے
ممکن جن کے بغیر مکمل تصور کا جہاں نہ ہو
اُس کی مست اداؤں کا دیوانہ ہے ہر کوئی
دید نہ ہو اسکی تو ہم میں جاں نہ ہو
ازل سے حسن والوں کی عادت ہے تڑپانا
اُسے کھو کر اے دل اتنا پشیماں نہ ہو
آباد رہیں یہ حسیں جو تڑپاتے ہیں دوسروں کو
دنیا میں اُس جیسے کہیں رفیقاں نہ ہو
دل صد چاک ما است مانندِ آئینہ
تجھ جیسا شیشہ گر کسی کا دلستاں نہ ہو
سدا جئیے وہ جس نے ہم کو دیا ہے دردِدل
دل کی لگی محبت ہے‘ پریشاں نہ ہو
خزاں کہہ کر ہم سے دامن بچاتے ہو تم
جچتی نہیں یہ بہار گر خزاں نہ ہو
راغب تھا کل تک جن کی محبت کا مسعودؔ
دل کے لٹنے پر کہتا ہے کہ تم سا ستم رساں نہ ہو















Add Comment